حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ عَنِ الْعَوَّامِ، عَنِ الْمُسَيِّبِ بْنِ رَافِعٍ قَالَ: يَجِيءُ الْقُرْآنُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شَافِعٌ مُطَاعٌ وَمَاحِلٌ مُصَدَّقٌ، فَيَشْفَعُ لِصَاحِبِهِ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، اجْزِهِ ; فَإِنَّهُ كَانَ يَعْمَلُ بِي، وَيَسْهَرُ بِي، وَيَنْصَبُ بِي ؛ فَاجْزِهِ ! فَيُقَالُ: " حُلَّةَ الْكَرَامَةِ " ! فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، اجْزِهِ ; فَإِنَّهُ كَانَ يَعْمَلُ بِي، وَيَسْهَرُ بِي، وَيَنْصَبُ بِي ؛ فَاجْزِهِ ! فَيُقَالُ: " تَاجَ الْكَرَامَةِ " ! فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، اجْزِهِ ; فَإِنَّهُ كَانَ يَعْمَلُ بِي، وَيَسْهَرُ بِي، وَيَنْصَبُ بِي ! قَالَ: فَيُقَالُ: " رِضْوَانِي، لَا سَخَطَ بَعْدَهُ ! " قَالَ: فَإِلَى ذَلِكَ تَنْتَهِي شَفَاعَةُ الْقُرْآنِ .مسیب بن رافع رحمہ اللہ کہتے ہیں: قیامت کے دن قرآن شفاعت کرنے والا اور تصدیق شدہ وکیل بن کر آئے گا، پس وہ اپنے صاحب کے لیے سفارش کرے گا اور کہے گا: ”اے میرے رب! اسے جزا دے، کیونکہ یہ میرے ذریعے عمل کرتا تھا، میری خاطر راتوں کو جاگتا تھا اور میرے لیے مشقت اٹھاتا تھا، پس اسے جزا دے!“ تو کہا جائے گا: ”اسے عزت و کرامت کا حلہ پہناؤ!“ پھر قرآن کہے گا: ”اے رب! اسے مزید جزا دے، کیونکہ یہ میرے ذریعے عمل کرتا تھا، میری خاطر جاگتا تھا اور مشقت اٹھاتا تھا!“ تو کہا جائے گا: ”اسے عزت و کرامت کا تاج پہناؤ!“ پھر قرآن دوبارہ کہے گا: ”اے رب! اسے مزید جزا دے، کیونکہ یہ میرے ذریعے عمل کرتا تھا، میری خاطر جاگتا تھا اور مشقت اٹھاتا تھا!“ تو کہا جائے گا: ”میری رضا اسے عطا کر دی گئی، اب اس پر کبھی ناراضگی نہ ہوگی!“ اور یہیں پر قرآن کی شفاعت ختم ہو جائے گی۔