حدیث نمبر: 1195
سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو شِهَابٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ، عَنْ مَسْرُوقِ بْنِ الْأَجْدَعٍ، قَالَ: كَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ يَقُولُ فِي أَخَوَاتٍ لِأَبٍ وَأُمٍّ، وَإِخْوَةٍ وَأَخَوَاتٍ لِأَبٍ، لِلْأَخَوَاتِ مِنَ الْأَبِ وَالْأُمِّ الثُّلُثَانِ، وَسَائِرُ الْمَالِ لِلذَّكَرِ دُونَ الْإِنَاثِ، فَلَمَّا قَدِمَ مَسْرُوقٌ الْمَدِينَةَ فَسَمِعَ قَوْلَ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ فِيهَا فَأَعْجَبَهُ، فَقَالَ لَهُ بَعْضُ أَصْحَابِهِ: أَتَتْرُكَ قَوْلَ عَبْدِ اللَّهِ؟ فَقَالَ: إِنِّي قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَوَجَدْتُ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ مِنَ الرَّاسِخِينَ فِي الْعِلْمِ "
مظاہر امیر خان

مسروق بن اجدع رحمہ اللہ نے فرمایا: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ: ”جب باپ اور ماں شریک بہنیں موجود ہوں، اور ان کے ساتھ صرف باپ شریک بھائی بہنیں ہوں، تو ماں اور باپ دونوں شریک بہنوں کو دو تہائی ملے گا، اور باقی مال صرف مذکر (یعنی بھائی) کو ملے گا، عورتوں کو کچھ نہ دیا جائے گا۔“ پھر جب میں مدینہ پہنچا اور سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کا قول سنا تو وہ مجھے پسند آیا۔ تو ان کے بعض ساتھیوں نے کہا: ”کیا آپ سیدنا عبداللہ بن مسعود کا قول چھوڑ دیں گے؟“ تو انہوں نے جواب دیا: ”میں مدینہ آیا تو زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو علم میں راسخ پایا۔“

حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب ولاية العصبة / حدیث: 1195
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف، وأخرجه الدارمي فى «مسنده» برقم: 2927، 2933، 2934، 2937، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 18، 19، 26، 27، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 12326، 12443، 12608، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 19013، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 31728، 31729»
أعمش «عن» سے روایت کر رہے ہیں، سماع کی تصریح نہیں ہے۔