سنن سعید بن منصور
كتاب التفسير— تفسیر کی کتاب
الْآيَةُ (88) قَوْلُهُ تَعَالَى: {فَلَمَّا دَخَلُوا عَلَيْهِ قَالُوا يَا أَيُّهَا الْعَزِيزُ مَسَّنَا وَأَهْلَنَا الضُّرُّ وَجِئْنَا بِبِضَاعَةٍ مُزْجَاةٍ فَأَوْفِ لَنَا الْكَيْلَ وَتَصَدَّقْ عَلَيْنَا إِنَّ اللهَ يَجْزِي الْمُتَصَدِّقِينَ} باب: اللہ تعالیٰ کے قول «فَلَمَّا دَخَلُوا عَلَيْهِ قَالُوا يَا أَيُّهَا الْعَزِيزُ مَسَّنَا الضُّرُّ» کا بیان
حدیث نمبر: 1141
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا سُفْيَانُ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الْبِضَاعَةِ الْمُزْجَاةِ، قَالَ: خَلَقُ الْغِرَارَةِ، وَالْجَرِينُ، وَالْحَبْلُ، وَالشَّيْءُ .مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا گیا کہ بضاعت مزجاة سے کیا مراد ہے؟ تو آپ نے فرمایا: یہ وہ چیزیں ہیں جو کمزور، خراب، اور ناقص ہوتی ہیں جیسے کہ رگڑ یعنی غریرہ، رشتہ یعنی جرین، رسی یعنی حبل اور دوسری چیزیں جو کمزور یا خراب ہوتی ہیں۔