حدیث نمبر: 1095
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا سُفْيَانُ وَهُشَيْمٌ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: خَرَجَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَسْتَسْقِي فَلَمْ يَزِدْ عَلَى الِاسْتِغْفَارِ حَتَّى رَجَعَ، فَقِيلَ لَهُ: مَا رَأَيْنَاكَ اسْتَسْقَيْتَ ! قَالَ: لَقَدْ طَلَبْتُ الْمَطَرَ بِمَجَادِيحِ السَّمَاءِ الَّذِي يُسْتَنْزَلُ بِهِ الْمَطَرُ، ثُمَّ قَرَأَ: { اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا } { يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُمْ مِدْرَارًا * وَيَا قَوْمِ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُوا إِلَيْهِ يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُمْ مِدْرَارًا } .
مظاہر امیر خان

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بارش کے لیے دعا کرنے نکلے اور استغفار کے علاوہ کچھ نہ کیا یہاں تک کہ واپس لوٹ آئے، لوگوں نے کہا: ہم نے تو آپ کو بارش کے لیے دعا کرتے نہیں دیکھا! تو انہوں نے فرمایا: میں نے بارش آسمان کے ان دروازوں سے طلب کی ہے جس کے ذریعے بارش نازل کی جاتی ہے، پھر یہ آیات تلاوت کیں: ﴿اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا﴾ یعنی اپنے رب سے مغفرت طلب کرو، بے شک وہ بہت زیادہ معاف کرنے والا ہے، ﴿يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُمْ مِدْرَارًا﴾ یعنی وہ تم پر خوب بارش برسائے گا، ﴿وَيَا قَوْمِ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُوا إِلَيْهِ يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُمْ مِدْرَارًا﴾ یعنی اور اے میری قوم! اپنے رب سے مغفرت طلب کرو پھر اس کی طرف پلٹ آؤ، وہ تم پر خوب بارش برسائے گا۔

حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 1095
درجۂ حدیث محدثین: سنده رجاله ثقات، لكنه ضعيف للانقطاع بين الشعبي وعمر رضي الله عنه، ولكن له شاهد صحيح كما سيأتي.
تخریج حدیث «أخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 1095، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6515، 6516، 6517، وعبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 4901، 4902، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 8428، 8429، 30099، 30100»