سنن سعید بن منصور
كتاب التفسير— تفسیر کی کتاب
الْآيَتَانِ (45 - 46) قَوْلُهُ تَعَالَى: {وَنَادَى نُوحٌ رَبَّهُ فَقَالَ رَبِّ إِنَّ ابْنِي مِنْ أَهْلِي وَإِنَّ وَعْدَكَ الْحَقُّ وَأَنْتَ أَحْكَمُ الْحَاكِمِينَ * قَالَ يَا نُوحُ إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ} الْآيَةَ باب: اللہ تعالیٰ کے قول «وَنَادَى نُوحٌ رَبَّهُ فَقَالَ رَبِّ إِنَّ ابْنِي مِنْ أَهْلِي» کا بیان
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا سُفْيَانُ وَهُشَيْمٌ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: خَرَجَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَسْتَسْقِي فَلَمْ يَزِدْ عَلَى الِاسْتِغْفَارِ حَتَّى رَجَعَ، فَقِيلَ لَهُ: مَا رَأَيْنَاكَ اسْتَسْقَيْتَ ! قَالَ: لَقَدْ طَلَبْتُ الْمَطَرَ بِمَجَادِيحِ السَّمَاءِ الَّذِي يُسْتَنْزَلُ بِهِ الْمَطَرُ، ثُمَّ قَرَأَ: { اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا } { يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُمْ مِدْرَارًا * وَيَا قَوْمِ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُوا إِلَيْهِ يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُمْ مِدْرَارًا } .سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بارش کے لیے دعا کرنے نکلے اور استغفار کے علاوہ کچھ نہ کیا یہاں تک کہ واپس لوٹ آئے، لوگوں نے کہا: ہم نے تو آپ کو بارش کے لیے دعا کرتے نہیں دیکھا! تو انہوں نے فرمایا: میں نے بارش آسمان کے ان دروازوں سے طلب کی ہے جس کے ذریعے بارش نازل کی جاتی ہے، پھر یہ آیات تلاوت کیں: ﴿اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا﴾ یعنی اپنے رب سے مغفرت طلب کرو، بے شک وہ بہت زیادہ معاف کرنے والا ہے، ﴿يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُمْ مِدْرَارًا﴾ یعنی وہ تم پر خوب بارش برسائے گا، ﴿وَيَا قَوْمِ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُوا إِلَيْهِ يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُمْ مِدْرَارًا﴾ یعنی اور اے میری قوم! اپنے رب سے مغفرت طلب کرو پھر اس کی طرف پلٹ آؤ، وہ تم پر خوب بارش برسائے گا۔