حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ زَيْتُونٍ، عَنِ الطُّفَيْلِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: أَقْرَأَنِي أُبَيٌّ الْقُرْآنَ، فَأَهْدَيْتُ إِلَيْهِ قَوْسًا، فَغَدَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُتَقَلِّدٌ بِهَا، فَقَالَ: مَنْ سَلَّحَكَ هَذِهِ ؟ قَالَ: الطُّفَيْلُ بْنُ عَمْرٍو، أَقْرَأْتُهُ الْقُرْآنَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَقَلَّدُهَا شِلْوَةً مِنْ نَارِ جَهَنَّمَ . قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّا نَأْكُلُ مِنْ طَعَامِهِمْ، فَقَالَ: أَمَّا طَعَامٌ صُنِعَ لِغَيْرِكَ فَحَضَرْتَهُ فَلَا بَأْسَ أَنْ تَأْكُلَهُ، وَأَمَّا مَا صُنِعَ لَكَ فَإِنَّمَا تَأْكُلُ بِخَلَاقِكَ .سیدنا طفیل بن عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے قرآن پڑھایا، تو میں نے انہیں ایک کمان ہدیہ دی، پھر وہ صبح کے وقت سیدنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے جبکہ وہ اس کمان کو پہنے ہوئے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ ہتھیار تمہیں کس نے دیا؟“ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”طفیل بن عمرو رضی اللہ عنہ نے، میں نے انہیں قرآن پڑھایا تھا۔“ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے جہنم کی آگ کا ایک ٹکڑا اپنے گلے میں لٹکا لیا ہے۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ہم ان کا کھانا بھی تو کھاتے ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر کوئی کھانا دوسروں کے لیے تیار کیا گیا اور تم وہاں موجود ہو تو اسے کھانے میں کوئی حرج نہیں، لیکن اگر وہ خاص تمہارے لیے بنایا گیا ہے تو تم اسے صرف اپنے عمل (اجر) کے بدلے کھا رہے ہو۔“