سنن سعید بن منصور
كتاب التفسير— تفسیر کی کتاب
الْآيَةُ (17) قَوْلُهُ تَعَالَى: {أَفَمَنْ كَانَ عَلَى بَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّهِ وَيَتْلُوهُ شَاهِدٌ مِنْهُ وَمِنْ قَبْلِهِ كِتَابُ مُوسَى إِمَامًا وَرَحْمَةً أُولَئِكَ يُؤْمِنُونَ بِهِ وَمَنْ يَكْفُرْ بِهِ مِنَ الأَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهُ} باب: اللہ تعالیٰ کے قول «أَفَمَنْ كَانَ عَلَى بَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّهِ» کا بیان
حدیث نمبر: 1081
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، قَالَ: كَانَ مُجَاهِدٌ يَقُولُ فِي قَوْلِهِ: { أَفَمَنْ كَانَ عَلَى بَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّهِ وَيَتْلُوهُ شَاهِدٌ مِنْهُ }، قَالَ: جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَالتَّالِي: التَّابِعُ . وَقَرَأَ: { وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا * وَالْقَمَرِ إِذَا تَلاهَا } .مظاہر امیر خان
مجاہد رحمہ اللہ نے اللہ عزوجل کے فرمان ﴿أَفَمَنْ كَانَ عَلَىٰ بَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّهِ وَيَتْلُوهُ شَاهِدٌ مِنْهُ﴾ یعنی تو بھلا وہ شخص جو اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل پر ہو اور اس کے پیچھے ایک گواہ آئے کے بارے میں فرمایا: اس سے مراد جبرائیل علیہ السلام ہیں، اور تلاوت کرنے والا تابع یعنی پیروی کرنے والا ہے، اور آپ نے یہ آیت پڑھی: ﴿وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا * وَالْقَمَرِ إِذَا تَلَاهَا﴾ یعنی قسم ہے سورج کی اور اس کی دھوپ کی، اور چاند کی جب وہ اس کے پیچھے آئے۔