حدیث نمبر: 1069
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ سُحَيْمٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَشَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السِّتَارَةَ وَالنَّاسُ صُفُوفٌ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: إِنَّهُ لَمْ يَبْقَ مِنْ مُبَشِّرَاتِ النُّبُوَّةِ إِلَّا الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يَرَاهَا الْمُسْلِمُ أَوْ تُرَى لَهُ، أَلَا إِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَقْرَأَ رَاكِعًا أَوْ سَاجِدًا، فَأَمَّا الرُّكُوعُ فَعَظِّمُوا الرَّبَّ فِيهِ، وَأَمَّا السُّجُودُ فَاجْتَهِدُوا فِي الدُّعَاءِ، فَقَمِنٌ أَنْ يُسْتَجَابَ لَكُمْ .
مظاہر امیر خان

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پردہ ہٹایا جبکہ لوگ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے صفیں باندھے کھڑے تھے، تو فرمایا: نبوت کی بشارتوں میں سے اب صرف صالح خواب باقی رہ گیا ہے جو مسلمان خود دیکھتا ہے یا اس کے لیے دیکھا جاتا ہے۔ یاد رکھو! مجھے منع کیا گیا ہے کہ میں حالتِ رکوع یا حالتِ سجدہ میں قرآن کی تلاوت کروں۔ پس رکوع میں اپنے رب کی عظمت بیان کرو، اور سجدہ میں دعا میں محنت کرو، کیونکہ دعا قبول ہونے کے زیادہ قریب ہے۔

حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 1069
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح أخرجه مسلم في ((صحيحه)) (١/ ٣٤٨ / رقم ٢٠٧) في كتاب الصلاة
تخریج حدیث «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 479، وابن الجارود فى "المنتقى"، 226، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 548، 599، 602، 674، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1896، 1900، 6045، 6046، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1044، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 637، 711، 7576، وأبو داود فى (سننه) برقم: 876، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1364، 1365، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3899، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 1069، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1925، والحميدي فى (مسنده) برقم: 495، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 2573، 8143، 31096»