سنن سعید بن منصور
كتاب التفسير— تفسیر کی کتاب
الْآيَاتُ (113 - 115) قَوْلُهُ تَعَالَى: {مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ} إِلَى قَوْلِهِ تَعَالَى: {إِنَّ اللهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ} باب: اللہ تعالیٰ کے قول «مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ» کا بیان
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا الْحَسَنُ بْنُ يَزِيدَ الْأَصَمُّ، قَالَ: سَمِعْتُ السُّدِّيَّ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: لَمَّا مَاتَ أَبُو طَالِبٍ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: إِنَّ عَمَّكَ الشَّيْخَ قَدْ مَاتَ ! فَقَالَ لِي: اذْهَبْ فَوَارِهِ، ثُمَّ لَا تُحْدِثْ شَيْئًا حَتَّى تَأْتِيَنِي . فَاغْتَسَلْتُ ثُمَّ أَتَيْتُهُ، فَدَعَا لِي بِدَعَوَاتٍ مَا يَسُرُّنِي أَنَّ لِي بِهَا حُمْرَ النَّعَمِ وَسُودَهَا، وَكَانَ عَلِيٌّ إِذَا غَسَّلَ الْمَيِّتَ اغْتَسَلَ .سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب ابوطالب فوت ہو گئے تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: آپ کا چچا، وہ بزرگ، فوت ہو گیا ہے! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ، اسے دفن کر دو، پھر کوئی نیا کام نہ کرنا جب تک میرے پاس نہ آ جاؤ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے اسے غسل دیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے کچھ دعائیں کیں، اور مجھے یہ اتنا محبوب ہوا کہ کاش میرے لیے ان دعاؤں کے بدلے سرخ اور سیاہ اونٹ بھی ہوتے۔ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ جب میت کو غسل دیتے تو خود بھی غسل کیا کرتے تھے۔