حدیث نمبر: 1041
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا أَبُو الْأَحْوَصِ، قَالَ: نَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ نَاجِيَةَ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: لَمَّا مَاتَ أَبُو طَالِبٍ أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ عَمَّكَ الضَّالَّ قَدْ مَاتَ ! فَقَالَ لِي: اذْهَبْ فَادْفِنْهُ، وَلَا تُحْدِثْ شَيْئًا حَتَّى تَأْتِيَنِي . قَالَ: فَانْطَلَقْتُ فَوَارَيْتُهُ، وَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيَّ أَثَرُ التُّرَابِ، فَدَعَا لِي بِدَعَوَاتٍ مَا يَسُرُّنِي أَنَّ لِي بِهَا مَا عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ مِنْ شَيْءٍ .
مظاہر امیر خان

سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: جب ابوطالب فوت ہو گئے تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کا گمراہ چچا فوت ہو گیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ، اسے دفن کر دو اور کوئی نیا کام نہ کرنا یہاں تک کہ میرے پاس واپس آؤ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں گیا، اسے دفن کر آیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا جبکہ مجھ پر مٹی کا اثر تھا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے کچھ دعائیں کیں، اور مجھے یہ اتنا محبوب ہوا کہ کاش میرے لیے ان دعاؤں کے بدلے زمین کی تمام چیزیں بھی ہوتیں۔

حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 1041
درجۂ حدیث محدثین: سنده ضعيف لجهالة حال ناجية بن كعب، وهو حسن لغيره بمجموع طرقه الآتي ذكرها، وأما متنه فسيأتي الكلام عنه.
تخریج حدیث «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 601، والضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 656، 657، 745، 746، 747، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 190، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 193، 2144، 8481، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3214، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 1041، 1042، وأحمد فى (مسنده) برقم: 770، 822، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 11261، 11267»