سنن سعید بن منصور
كتاب التفسير— تفسیر کی کتاب
الْآيَاتُ (113 - 115) قَوْلُهُ تَعَالَى: {مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ} إِلَى قَوْلِهِ تَعَالَى: {إِنَّ اللهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ} باب: اللہ تعالیٰ کے قول «مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ» کا بیان
حدیث نمبر: 1040
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، قَالَ: نَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي إِسْمَاعِيلَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ: مَاتَتْ أُمِّي نَصْرَانِيَّةً، فَأَتَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَقُلْتُ: مَاتَتْ أُمِّي نَصْرَانِيَّةً، فَقَالَ: ارْكَبْ دَابَّةً وَسِرْ أَمَامَ جِنَازَتِهَا .مظاہر امیر خان
ابو وائل رحمہ اللہ نے کہا: میری ماں نصرانی حالت میں فوت ہو گئی، میں سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور عرض کیا: میری ماں نصرانی حالت میں فوت ہو گئی ہے۔ سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ایک سواری پر سوار ہو جاؤ اور اس کے جنازے کے آگے آگے چلو۔