سنن سعید بن منصور
كتاب التفسير— تفسیر کی کتاب
الْآيَاتُ (113 - 115) قَوْلُهُ تَعَالَى: {مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ} إِلَى قَوْلِهِ تَعَالَى: {إِنَّ اللهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ} باب: اللہ تعالیٰ کے قول «مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ» کا بیان
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ: إِنَّ أَبِي مَاتَ نَصْرَانِيًّا، فَقَالَ لَهُ: اغْسِلْهُ، وَكَفِّنْهُ وَحَنِّطْهُ، ثُمَّ ادْفِنْهُ، ثُمَّ قَالَ هَذِهِ الْآيَةَ: { مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَى مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ * وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ إِبْرَاهِيمَ لأَبِيهِ إِلا عَنْ مَوْعِدَةٍ وَعَدَهَا إِيَّاهُ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ أَنَّهُ عَدُوٌّ لِلهِ تَبَرَّأَ مِنْهُ }، قَالَ: لَمَّا مَاتَ عَلَى كُفْرِهِ تَبَيَّنَ لَهُ أَنَّهُ عَدُوٌّ لِلهِ، فَتَبَرَّأَ مِنْهُ .سعید بن جبیر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور کہنے لگا: میرا والد نصرانی حالت میں فوت ہو گیا ہے، تو آپ نے فرمایا: اسے غسل دو، کفن دو اور خوشبو لگاؤ، پھر اسے دفن کر دو، پھر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ آیت تلاوت فرمائی ﴿مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَىٰ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ * وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ إِبْرَاهِيمَ لِأَبِيهِ إِلَّا عَنْ مَوْعِدَةٍ وَعَدَهَا إِيَّاهُ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ أَنَّهُ عَدُوٌّ لِلَّهِ تَبَرَّأَ مِنْهُ﴾ یعنی نبی اور ایمان والوں کے لیے جائز نہیں کہ وہ مشرکوں کے لیے مغفرت کی دعا کریں، اگرچہ وہ قریبی رشتہ دار ہی ہوں، اس کے بعد کہ ان پر واضح ہو گیا کہ وہ دوزخی ہیں، اور ابراہیم کا اپنے باپ کے لیے استغفار کرنا صرف ایک وعدے کی وجہ سے تھا جو وہ اس سے کرچکے تھے، پھر جب ان پر واضح ہو گیا کہ وہ اللہ عزوجل کا دشمن ہے تو ابراہیم علیہ السلام اس سے بیزار ہو گئے، پھر فرمایا: جب وہ کفر پر مر گیا تو ابراہیم علیہ السلام پر ظاہر ہو گیا کہ وہ اللہ عزوجل کا دشمن ہے، تو ابراہیم علیہ السلام نے اس سے براءت اختیار کی۔