سنن سعید بن منصور
كتاب التفسير— تفسیر کی کتاب
الْآيَةُ (92) قَوْلُهُ تَعَالَى: {وَلا عَلَى الَّذِينَ إِذَا مَا أَتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ قُلْتَ لا أَجِدُ مَا أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ تَوَلَّوْا وَأَعْيُنُهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ} الْآيَةَ باب: اللہ تعالیٰ کے قول «وَلا عَلَى الَّذِينَ إِذَا مَا أَتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ» کا بیان
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: لَمَّا خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى تَبُوكَ قَالَ: لَا يَخْرُجَنَّ مَعَنَا إِلَّا مُقْوٍ، فَخَرَجَ رَجُلٌ عَلَى بَكْرٍ لَهُ صَعْبٍ فَوَقَصَ بِهِ فَمَاتَ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَقُولُونَ: الشَّهِيدُ، الشَّهِيدُ . ¤ فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَالًا يُنَادِي فِي النَّاسِ أَنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا نَفْسٌ مُؤْمِنَةٌ، وَلَا يَدْخُلُهَا عَاصٍ . قَالَ مُجَاهِدٌ: مَا سَمِعْنَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا أَشَدَّ مِنْ هَذَا، وَمِنْ حَدِيثِهِ: لَقَدْ ضُمَّ سَعْدٌ ضَمَّةً .مجاہد رحمہ اللہ نے فرمایا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تبوک کی طرف نکلے تو فرمایا: ہمارے ساتھ وہی شخص نکلے جو صاحبِ قوت ہو، تو ایک شخص اپنے ایک سخت مزاج اونٹ پر سوار ہو کر نکلا، تو وہ اونٹ اس کے ساتھ گر پڑا اور وہ مر گیا، تو لوگ کہنے لگے: شہید، شہید، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ لوگوں میں اعلان کریں کہ «لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا نَفْسٌ مُؤْمِنَةٌ، وَلَا يَدْخُلُهَا عَاصٍ»، یعنی جنت میں صرف مؤمن جان ہی داخل ہوگی، اور گناہگار داخل نہیں ہوگا، مجاہد رحمہ اللہ نے کہا: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اس سے زیادہ سخت کوئی بات نہیں سنی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک اور حدیث یہ ہے: «لَقَدْ ضُمَّ سَعْدٌ ضَمَّةً»، یعنی سعد کو قبر میں ایک سخت دباؤ دیا گیا تھا۔