السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: الرجل من المسلمين قد شهد الحرب يقع على الجارية من السبي قبل القسم باب: مسلمانوں میں سے وہ شخص جو جنگ میں حاضر ہوا اور مالِ غنیمت کی تقسیم سے پہلے قیدی لونڈی سے ہمبستری کر لے، اس کا بیان۔
قَالَ الشَّافِعِيُّ: أُخِذَ مِنْهُ عُقْرُهَا وَلَا حَدَّ مِنْ قِبَلِ الشُّبْهَةِ فِي أَنَّهُ يَمْلِكُ مِنْهَا شَيْئًا.امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اس سے اس (لونڈی) کا عُقر (یعنی اس سے ہمبستری کا معاوضہ، مہر مثل) لیا جائے گا، اور اس پر حد نہیں ہو گی، کیونکہ اس بات کا شبہ موجود ہے کہ وہ (غنیمت میں شریک ہونے کی وجہ سے) اس میں سے کچھ حصے کا مالک ہے۔“
أَخْبَرَنَا الْإِمَامُ أَبُو الْفَتْحِ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ أَبِي شُرَيْحٍ، أنبأ أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زِيَادٍ الدِّمَشْقِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ ⦗٢٠٨⦘ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ادْرَؤُوا الْحُدُودَ مَا اسْتَطَعْتُمْ، فَإِنْ وَجَدْتُمْ لِلْمُسْلِمِينَ مَخْرَجًا فَخَلُّوا سَبِيلَهُ، فَإِنَّ الْإِمَامَ أَنْ يُخْطِئَ فِي الْعَفْوِ خَيْرٌ مِنْ أَنْ يُخْطِئَ فِي الْعُقُوبَةِ ". وَرُوِّينَا فِي ذَلِكَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَعَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا وَغَيْرِهِمَا، وَأَصَحُّ الرِّوَايَاتِ فِيهِ عَنِ الصَّحَابَةِ رِوَايَةُ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ مِنْ قَوْلِهِ، وَقَدْ مَضَى فِي كِتَابِ الْحُدُودِ.سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اپنی طاقت کے موافق حدود کو دور کرو، اگر مسلمانوں کے لیے کوئی راستہ پاؤ تو ان کو چھوڑ دو، کیونکہ امام کا معاف کرنے میں غلطی کرنا اس سے بہتر ہے کہ وہ غلطی سے سزا دے۔“
اس بارے میں صحابہ سے سب سے صحیح روایت عاصم کی ہے جو ابووائل سے اور وہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ان کے اپنے قول کے طور پر نقل کرتے ہیں۔