السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: النهي عن الجلوس على القبور باب: قبروں پر بیٹھنے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 7214
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، بِنَيْسَابُورَ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي طَاهِرٍ الدَّقَّاقُ بِبَغْدَادَ قَالَا: ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ، أنبأ سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا قُتَبْيَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَأَنْ يَجْلِسَ أَحَدُكُمْ عَلَى جَمْرَةٍ أَوْ عَلَى نَارٍ فَتُحْرِقُ ثِيَابَهُ حَتَّى تَخْلُصَ إِلَيْهِ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَجْلِسَ عَلَى قَبْرٍ " وَفِي رِوَايَةِ عَلِيٍّ " لَأَنْ يَجْلِسَ أَحَدُكُمْ عَلَى جَمْرَةٍ فَتُحْرِقَ ثِيَابَهُ حَتَّى تَصِلَ إِلَى جِلْدِهِ خَيْرٌ مِنْ أَنْ يَجْلِسَ عَلَى قَبْرٍ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر انسان انگارے پر بیٹھے یا آگ پر اور وہ اس کے کپڑے کو جلا کر اس تک پہنچ جائے تو اس کے لیے بہتر ہے اس سے کہ وہ قبر پر بیٹھے۔“
علی بن عاصم کی روایت میں ہے کہ: ”تمہارا کوئی شخص انگارے پر بیٹھے اور وہ اس کے کپڑے کو جلا دے اور وہ اس کی جلد تک پہنچ جائے، یہ اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ وہ قبر پر بیٹھے۔“