السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: سياق أخبار تدل على أن الميت يعذب بالنياحة عليه وما روي عن عائشة رضي الله عنها في ذلك. باب: ان احادیث کا بیان جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ میت کو اس پر نوحہ کیے جانے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے اور اس بارے میں جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے اس کا بیان
حدیث نمبر: 7170
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّيْدَلَانِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَصْرٍ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ قَيْسٍ الْأَسَدِيُّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ، قَالَ كَانَ أَوَّلُ مَنْ نِيحَ عَلَيْهِ بِالْكُوفَةِ عَلَى قَرَظَةَ بْنِ كَعْبٍ وَزَعَمَ أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ قَامَ فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ ". وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: " مَنْ نِيحَ عَلَيْهِ فَإِنَّهُ يُعَذَّبُ بِمَا نِيحَ عَلَيْهِ " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ.حافظ ثناء اللہ
علی بن ربیعہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ کوفے میں جس شخص پر سب سے پہلے نوحہ کیا گیا وہ سیدنا قرظہ بن کعب رضی اللہ عنہ تھے، تو سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی، پھر کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ ”جس نے جان بوجھ کر مجھ پر بہتان باندھا، چاہیے کہ وہ اپنا ٹھکانا دوزخ میں بنائے“ اور میں نے آپ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس پر نوحہ کیا گیا وہ نوحے کی وجہ سے عذاب دیا جائے گا۔“