السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: سياق أخبار تدل على أن الميت يعذب بالنياحة عليه وما روي عن عائشة رضي الله عنها في ذلك. باب: ان احادیث کا بیان جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ میت کو اس پر نوحہ کیے جانے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے اور اس بارے میں جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے اس کا بیان
حدیث نمبر: 7168
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنْبَرِيُّ، ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لَمَّا طُعِنَ عَوَّلَتْ عَلَيْهِ حَفْصَةُ فَقَالَ: يَا حَفْصَةُ أَمَا سَمِعْتِ ⦗١٢٠⦘ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " الْمُعَوَّلُ عَلَيْهِ يُعَذَّبُ ". وَعَوَّلَ عَلَيْهِ صُهَيْبٌ فَقَالَ عُمَرُ: " يَا صُهَيْبُ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الْمُعَوَّلَ عَلَيْهِ يُعَذَّبُ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ عَنْ عَفَّانَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پر خنجر کے وار ہوئے تو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے اس پر اظہارِ افسوس کیا تو انہوں نے کہا: اے حفصہ! کیا تو نے نہیں سنا کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے تھے: ”جس پر نوحہ کیا جاتا ہے اسے عذاب دیا جاتا ہے“ اور اسی طرح سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ نے آہ و بکا کی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے صہیب! کیا تو جانتا نہیں کہ ”جس پر آہ و بکا کی جائے اسے عذاب دیا جاتا ہے۔“