السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: الرغبة في أن يتعزى بما أمر الله تعالى به من الصبر والاسترجاع باب: اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق صبر کرنے اور "إنا لله وإنا إليه راجعون" پڑھ کر تسلی حاصل کرنے کی ترغیب کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْأَسَدِيُّ الْحَافِظُ وَأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَمْدَانَ الْجَلَّابُ قَالَا: ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دِيزِيلَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَرْوِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الْعُمَرِيُّ، عَنْ أَخِيهِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَحْشٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَمْنَةَ بِنْتِ جَحْشٍ، أَنَّهُ قِيلَ لَهَا: قُتِلَ أَخُوكِ فَقَالَتْ: رَحِمَهُ اللهُ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، فَقِيلَ لَهَا: قُتِلَ خَالُكِ حَمْزَةُ فَقَالَتْ: رَحِمَهُ اللهُ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، فَقِيلَ لَهَا: قُتِلَ زَوْجُكِ، فَقَالَتْ: وَاحُزْنَاهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ لِلزَّوْجِ مِنَ الْمَرْأَةِ لَشُعْبَةً لَيْسَتْ لِشَيْءٍ ".ابراہیم بن محمد اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں اور وہ حمنہ بنت جحش رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ ان سے کہا گیا: تیرا بھائی شہید ہو گیا ہے، تو انہوں نے کہا: اللہ اس پر رحم کرے، «إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ» ”بے شک ہم اللہ ہی کے لیے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں“ پھر ان سے کہا گیا: تیرا ماموں حمزہ رضی اللہ عنہ شہید کر دیا گیا، انہوں نے کہا: «إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ» ”بے شک ہم اللہ ہی کے لیے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں“۔ پھر ان سے کہا گیا: تیرا خاوند شہید کر دیا گیا، کہنے لگی: ہائے افسوس! تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”خاوند کا عورت سے ایک خاص تعلق ہوتا ہے جو کسی سے نہیں ہوتا۔“