السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: الرغبة في أن يتعزى بما أمر الله تعالى به من الصبر والاسترجاع باب: اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق صبر کرنے اور "إنا لله وإنا إليه راجعون" پڑھ کر تسلی حاصل کرنے کی ترغیب کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ، عَنِ ابْنِ سَفِينَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَا مِنْ مُسْلِمٍ تُصِيبُهُ مُصِيبَةٌ فَيَقُولُ مَا أَمَرَهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ ⦗١٠٨⦘ رَاجِعُونَ اللهُمَّ أُؤْجُرْنِي فِي مُصِيبَتِي وَاخْلُفْ لِي خَيْرًا مِنْهَا، إِلَّا أَخْلَفَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ خَيْرًا مِنْهَا "، قَالَتْ: فَلَمَّا مَاتَ أَبُو سَلَمَةَ، قُلْتُ أِيُّ الْمُسْلِمِينَ خَيْرٌ مِنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَوَّلُ بَيْتٍ هَاجَرَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ إِنِّي قُلْتُهَا فَأَخْلَفَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ لِي رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: فَأَرْسَلَ إِلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاطِبَ بْنَ أَبِي بَلْتَعَةَ يَخْطُبُنِي لَهُ فَقُلْتُ: إِنَّ لِي بِنْتًا وَأَنَا غَيُورٌ، فَقَالَ: " أَمَّا ابْنَتُهَا فَنَدْعُو اللهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُغْنِيَهَا وَأَدْعُو اللهَ أَنْ يُذْهِبَ الْغَيْرَةَ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ، وَغَيْرِهِ عَنْ إِسْمَاعِيلَ.سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس مسلمان کو کوئی مصیبت پہنچے اور وہ وہی کہے جس کا اللہ عزوجل نے اسے حکم دیا ہے: «إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، اَللّٰهُمَّ أْجُرْنِيْ فِيْ مُصِيبَتِيْ وَاخْلُفْ لِيْ خَيْرًا مِّنْهَا» ”بے شک ہم اللہ ہی کے لیے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں، اے اللہ! مجھے میری مصیبت میں اجر دے اور مجھے اس کے بدلے میں اس سے بہتر عطا فرما“ تو اللہ عزوجل اسے اس کے بدلے میں اس سے بہتر عطا فرما دیتا ہے۔“ وہ فرماتی ہیں: جب ابو سلمہ رضی اللہ عنہ فوت ہوئے تو میں نے کہا: مسلمانوں میں ابو سلمہ سے بہتر کون ہے؟ وہ پہلا گھرانہ ہے جس نے رسول اللہ ﷺ کی طرف ہجرت کی۔ پھر میں نے یہ کلمات کہہ دیے تو اللہ عزوجل نے مجھے ان کے بدلے میں رسول اللہ ﷺ عطا فرما دیے۔ وہ فرماتی ہیں: رسول اللہ ﷺ نے سیدنا حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ کو میرے پاس اپنے لیے نکاح کا پیغام دے کر بھیجا تو میں نے کہا: میری ایک بیٹی ہے اور میں غیرت مند ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”رہی اس کی بیٹی تو ہم اللہ عزوجل سے دعا کریں گے کہ وہ اسے بے نیاز کر دے، اور میں اللہ سے دعا کروں گا کہ وہ غیرت کو دور کر دے۔“