حدیث نمبر: 7082
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، قَالَ: رَأَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَبْلَ أَنْ يُصَابَ بِأَيَّامٍ فِي الْمَدِينَةِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي مَقْتَلِهِ، وَفِيهِ أَنَّهُ قَالَ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ: " انْطَلِقْ إِلَى عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ فَقُلْ: يَقْرَأُ عَلَيْكِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ السَّلَامَ وَلَا تَقُلْ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؛ فَإِنِّي لَسْتُ الْيَوْمَ لِلْمُؤْمِنِينَ أَمِيرًا، وَقُلْ: يَسْتَأْذِنُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَنْ يُدْفَنَ مَعَ صَاحِبَيْهِ "، قَالَ فَسَلَّمَ فَاسْتَأْذَنَ ثُمَّ دَخَلَ عَلَيْهَا فَوَجَدَهَا قَاعِدَةً ⦗٩٧⦘ تَبْكِي فَقَالَ: يَقْرَأُ عَلَيْكِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ السَّلَامَ وَيَسْتَأْذِنُ أَنْ يُدْفَنَ مَعَ صَاحِبَيْهِ فَقَالَتْ: قَدْ كُنْتُ أُرِيدُهُ لِنَفْسِي وَلَأُوثِرَنَّهُ الْيَوْمَ عَلَى نَفْسِي، قَالَ فَجَاءَ فَلَمَّا أَقْبَلَ قِيلَ: هَذَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ قَدْ جَاءَ، قَالَ: " ارْفَعُونِي فَأَسْنَدَهُ رَجُلٌ إِلَيْهِ فَقَالَ مَا لَدَيْكَ؟ " قَالَ: الَّذِي تُحِبُّ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَدْ أَذِنَتْ، فَقَالَ: " الْحَمْدُ لِلَّهِ مَا كَانَ شَيْءٌ أَهَمَّ مِنْ ذَلِكَ الْمُضْطَجِعِ، فَإِذَا أَنَا قُبِضْتُ فَاحْمِلُونِي ثُمَّ سَلِّمْ، فَقُلْ يَسْتَأْذِنُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَإِنْ أَذِنَتْ لَكَ فَأَدْخِلُونِي وَإِنْ رَدَّتْنِي فَرُدُّونِي إِلَى مَقَابِرِ الْمُسْلِمِينَ "، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ: فَلَمَّا قُبِضَ خَرَجْنَا بِهِ فَانْطَلَقْنَا نَمْشِي فَسَلَّمَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، وَقَالَ: يَسْتَأْذِنُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، قَالَتْ أَدْخِلُوهُ فَأُدْخِلَ فَوُضِعَ هُنَاكَ مَعَ صَاحِبَيْهِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ.
حافظ ثناء اللہ

عمرو بن میمون رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو مدینہ میں شہید ہونے سے پہلے دیکھا اور انہوں نے ان کی شہادت کا تذکرہ کیا اور اس میں یہ بات بھی ہے کہ انہوں نے اپنے بیٹے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما سے کہا: ”تم ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سلام پیش کرتے ہیں اور امیر المؤمنین نہ کہنا؛ کیونکہ اب میں امیر المؤمنین نہیں ہوں اور ان سے کہنا کہ عمر بن خطاب اپنے ساتھیوں کے ساتھ دفن ہونے کی اجازت طلب کرتے ہیں۔“ فرماتے ہیں: سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما نے سلام کہا اور اجازت طلب کی، پھر وہ ان کے پاس گئے تو وہ بیٹھی رو رہی تھیں تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہا: ”عمر بن خطاب آپ کو سلام کہتے ہیں اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ دفن کی اجازت طلب کرتے ہیں۔“ تو انہوں نے کہا: ”وہ تو میرا اپنا ارادہ تھا مگر آج میں اپنے اوپر عمر رضی اللہ عنہ کو ترجیح دیتی ہوں۔“ پس وہ آئے تو کہا گیا: یہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما آئے ہیں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”مجھے اٹھاؤ۔“ تو ایک آدمی نے اپنے ساتھ ٹیک لگائی تو کہنے لگے: ”تیرے پاس کیا خبر ہے؟“ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہا: ”اے امیر المؤمنین! وہی جسے آپ پسند کرتے ہیں کہ انہوں نے اجازت دے دی ہے۔“ انہوں نے کہا: ”اللہ کا شکر، اس جگہ سے بہتر میرے لیے اور کوئی چیز نہیں۔ جب میں فوت ہو جاؤں تو مجھے اٹھا کے لے جانا، پھر سلام کہنا اور کہنا کہ عمر بن خطاب اجازت طلب کرتا ہے، اگر وہ تجھے اجازت دے دیں تو مجھے داخل کرنا اور اگر وہ رد کردیں تو مجھے واپس لے آنا اور مسلمانوں کے قبرستان میں لے آنا۔“ اور پوری حدیث بیان کی۔ وہ کہتے ہیں: جب وہ فوت ہوگئے تو ہم انہیں لے کر نکلے، جب ہم وہاں پہنچے تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے سلام کیا اور کہا: ”عمر بن خطاب اجازت طلب کرتے ہیں۔“ تو انہوں نے کہا: ”انہیں داخل کرو۔“ تو انہوں نے داخل کردیا اور وہاں ان کے ساتھیوں کے ساتھ رکھا گیا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 7082
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه البخاري»