حدیث نمبر: 7077
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ أَبِي مَسْلَمَةَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: " دُفِنَ أَبِي مَعَ رَجُلٍ فَكَانَ فِي نَفْسِي مِنْ ذَلِكَ حَاجَةٌ فَأَخْرَجْتُهُ بَعْدَ سِتَّةِ أَشْهُرٍ فَمَا أَنْكَرْتُ مِنْهُ شَيْئًا إِلَّا شُعَيْرَاتٍ كُنَّ فِي لِحْيَتِهِ مِمَّا يَلِي الْأَرْضَ ".
حافظ ثناء اللہ

سیدنا جابر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میرے ابا جان کو ایک آدمی کے ساتھ دفن کیا گیا، اس وجہ سے میرے دل میں کچھ (بے چینی) تھی۔ سو میں نے انہیں چھ ماہ بعد وہاں سے نکالا تو میں نے سوائے ڈاڑھی کے چند بالوں کے کچھ بھی کم نہ پایا جو زمین کے ساتھ تھے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 7077
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه ابو داؤد»