السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: من لم ير به بأسا وإن كان الاختيار فيما مضى باب: اس شخص کا بیان جس نے اس (میت کو منتقل کرنے) میں کوئی حرج نہیں سمجھا، اگرچہ پسندیدہ بات وہی ہے جو گزر چکی
حدیث نمبر: 7075
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ، ثنا يَعْقُوبُ، ثنا ابْنُ عُثْمَانَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ، أنبأ نَافِعُ بْنُ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ: " أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا تُوُفِّيَ بِالْحَبَشَةِ عَلَى رَأْسِ أَمْيَالٍ مِنْ مَكَّةَ فَنَقَلَهُ ابْنُ صَفْوَانَ إِلَى مَكَّةَ " وَرُوِّينَا عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ: مَاتَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا بِالصِّفَاحِ أَوْ قَرِيبًا مِنْهَا فَحَمَلْنَاهُ عَلَى عَوَاتِقِ الرِّجَالِ حَتَّى دَفَنَّاهُ بِمَكَّةَ.حافظ ثناء اللہ
ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبد الرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما حبشی میں مکہ کی طرف کچھ میلوں کے فاصلے پر فوت ہوئے، انہیں ابن صفوان رحمہ اللہ نے مکہ منتقل کیا۔
ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ سے ایوب رحمہ اللہ نے نقل کیا کہ انہوں نے کہا: سیدنا عبد الرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما صفاح میں یا اس کے قریب فوت ہو گئے تو ہم نے انہیں لوگوں کی گردنوں پر اٹھایا حتیٰ کہ مکہ میں دفن کیا۔