حدیث نمبر: 7035
وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْفَضْلِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، أنبأ يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا ابْنُ عُثْمَانَ يَعْنِي عَبْدَانَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ هُوَ ابْنُ الْمُبَارَكِ، أنبأ مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ حَمْزَةَ، أَنَّ عَبَّادَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ وَبَعْضَ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَضِيَ عَنْهُنَّ أَمَرْنَ بِجِنَازَةِ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنْ يُمَرَّ بِهَا عَلَيْهِنَّ، فَمُرَّ بِهِ فِي الْمَسْجِدِ فَجُعِلَ يُوقَفُ عَلَى الْحُجَرِ فَيُصَلِّينَ عَلَيْهِ، ثُمَّ بَلَغَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ بَعْضَ النَّاسِ عَابَ ذَلِكَ وَقَالَ: هَذِهِ بِدْعَةٌ مَا كَانَتِ الْجِنَازَةُ تَدْخُلُ الْمَسْجِدَ، فَقَالَتْ: " مَا أَسْرَعَ النَّاسَ إِلَى أَنْ يَعِيبُوا مَا لَا عِلْمَ لَهُمْ بِهِ، عَابُوا عَلَيْنَا أَنْ دَعَوْنَا بِجِنَازَةِ سَعْدٍ تَدْخُلُ الْمَسْجِدَ، وَمَا صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى سُهَيْلِ بْنِ بَيْضَاءَ إِلَّا فِي جَوْفِ الْمَسْجِدِ " وَأَخْرَجَهُ أَيْضًا مِنْ حَدِيثِ وُهَيْبٍ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ حَمْزَةَ.
حافظ ثناء اللہ

عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور دیگر ازواجِ نبی ﷺ نے کہا کہ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے جنازے کو ہمارے پاس لایا جائے، تو وہ مسجد میں لائے گئے اور ازواجِ نبی ﷺ نے حجروں پر کھڑے ہو کر ان کا جنازہ پڑھا، پھر سیدہ رضی اللہ عنہا کو یہ بات پہنچی کہ کچھ لوگوں نے اس پر اعتراض کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ بدعت ہے کیونکہ جنازہ مسجد میں نہیں لایا جاتا تھا، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: لوگوں نے کتنی جلدی ایسی بات پر عیب لگایا ہے جس کا انہیں علم نہیں، انہوں نے اس لیے عیب لگایا کہ ہم نے سعد کے جنازے کو مسجد میں بلایا ہے، کیا رسول اللہ ﷺ نے سہیل بن بیضا رضی اللہ عنہ کا جنازہ مسجد میں نہیں پڑھا تھا!

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 7035
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم»