حدیث نمبر: 7011
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا خَالِدُ بْنُ خِدَاشٍ، ح وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا خَالِدُ بْنُ خِدَاشٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِقَبْرٍ يُدْفَنُ، فَقَالَ: " قَبْرُ مَنْ هَذَا "، قَالُوا: قَبْرُ فُلَانٍ، قَالَ: " أَفَلَا كُنْتُمْ آذَنْتُمُونِي "، قَالَ: فَصَغَّرُوا أَمْرَهُ، وَحَقَّرُوهُ فَصَلَّى عَلَيْهِ بَعْدَ مَا دُفِنَ، وَقَالَ: " هَذِهِ الْقُبُورُ مَمْلُوءَةٌ عَلَى أَهْلِهَا ظُلْمَةً وَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيُنَوِّرُهَا بِصَلَاتِي عَلَيْهَا "، وَقَدْ رَوَاهُ ثَابِتٌ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَهُوَ مَحْفُوظٌ مِنَ الْوَجْهَيْنِ جَمِيعًا.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ ایک قبر کے پاس سے گزرے جس میں میت دفن کی گئی تھی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ قبر کس کی ہے؟“ انہوں نے کہا: فلاں کی قبر ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے مجھے کیوں نہ بتایا؟“ راوی کہتے ہیں: انہوں نے اس کو حقیر جانا اور چھوٹا تصور کیا، پھر آپ ﷺ نے اسے دفن کیے جانے کے بعد اس کا جنازہ پڑھا اور آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ قبریں اندھیرے سے بھری ہوئی ہوتی ہیں اور اللہ تعالیٰ میری دعا سے انہیں منور کردیتے ہیں۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 7011
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم»