السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: من قال: يسلم تسليما خفيا باب: اس شخص کے قول کا بیان جس نے کہا ہے کہ وہ آہستہ آواز میں سلام پھیرے گا
حدیث نمبر: 6991
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ جَابِرٍ، ثنا أَبُو كَامِلٍ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ، ثنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ، يَقُولُ لِسَعِيدٍ: " مِنْ سُنَّةِ الصَّلَاةِ عَلَى الْمَيِّتِ أَنْ يُكَبِّرَ ثُمَّ يُصَلِّيَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ يَجْتَهِدَ لِلْمَيِّتِ فِي الدُّعَاءِ، ثُمَّ يُسَلِّمَ فِي نَفْسِهِ " وَكَذَلِكَ رُوِيَ عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ مَعْمَرٍ وَعِنْدِي أَنَّهُ غَلَطٌ وَالصَّوَابُ رِوَايَةُ مَنْ رَوَاهَا عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے سعید سے کہا: نمازِ جنازہ کا سنت طریقہ یہ ہے کہ تکبیر کہیں، پھر نبی ﷺ پر درود بھیجیں، پھر میت کے لیے خصوصی دعائیں کریں، پھر دل میں سلام پھیریں۔
اسی طرح عبدالواحد بن زیاد نے معمر سے روایت کیا ہے، اور میرے نزدیک یہ غلطی ہے، درست ان لوگوں کی روایت ہے جنہوں نے اسے زہری سے، انہوں نے ابو امامہ بن سہل بن حنیف سے روایت کیا ہے۔