السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: الدعاء في صلاة الجنازة باب: نماز جنازہ میں دعا کرنے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْحَمَامِيُّ الْمُقْرِئُ رَحِمَهُ اللهُ بِبَغْدَادَ، أنبأ ⦗٦٦⦘ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ بْنِ الْحَسَنِ الْفَقِيهُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ السُّلَمِيُّ، ثنا أَبُو صَالِحٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ الْحَضْرَمِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَوْفَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى جِنَازَةٍ فَحَفِظْتُ مِنْ دُعَائِهِ، وَهُوَ يَقُولُ: " اللهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ وَعَافِهِ وَاعْفُ عَنْهُ، وَأَكْرِمْ نُزُلَهُ وَوَسِّعْ عَلَيْهِ مُدْخَلَهُ، وَاغْسِلْهُ بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ، وَنَقِّهِ مِنَ الْخَطَايَا كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ، وَأَبْدِلْهُ دَارًا خَيْرًا مِنْ دَارِهِ، وَأَهْلًا خَيْرًا مِنْ أَهْلِهِ، وَزَوْجَةً خَيْرًا مِنْ زَوْجَتِهِ، وَأَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ، وَأَعِذْهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَمِنْ عَذَابِ النَّارِ، حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنْ أَكُونَ أَنَا ذَلِكَ الْمَيِّتَ ".سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ایک جنازہ پڑھایا اور میں نے آپ ﷺ کی دعا کو یاد کر لیا اور آپ ﷺ نے یہ دعا کی: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ وَعَافِهِ وَاعْفُ عَنْهُ، وَأَكْرِمْ نُزُلَهُ، وَوَسِّعْ مُدْخَلَهُ، وَاغْسِلْهُ بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ، وَنَقِّهِ مِنَ الْخَطَايَا كَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ الْأَبْيَضَ مِنَ الدَّنَسِ، وَأَبْدِلْهُ دَارًا خَيْرًا مِنْ دَارِهِ، وَأَهْلًا خَيْرًا مِنْ أَهْلِهِ، وَزَوْجًا خَيْرًا مِنْ زَوْجِهِ، وَأَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ، وَأَعِذْهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَمِنْ عَذَابِ النَّارِ» ”اے اللہ! اسے بخش دے اور اس پر رحم فرما، اسے معاف کر دے اور درگزر فرما اور اس کے مرتبے کو بلند فرما اور اس کی قبر کو کشادہ کر اور اسے پانی، برف اور اولوں سے دھو ڈال اور اسے گناہوں سے صاف کر دے جیسے کپڑا میل سے صاف کیا جاتا ہے اور اس کے گھر کو بہترین گھر میں تبدیل کر اور اس کے اہل کو اچھے اہل میں، اس کے جوڑے کو بہترین جوڑے میں بدل دے اور اسے جنت میں داخل کر اور اسے قبر اور دوزخ کے عذاب سے بچا“، یہاں تک کہ میں نے خواہش کی کہ کاش! یہ میری میت ہوتی۔