السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: الصلاة على النبي صلى الله عليه وسلم في صلاة الجنازة باب: نماز جنازہ میں نبی ﷺ پر درود پڑھنے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَاءُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْإِسْفَرَائِنِيُّ بِهَا، أنبأ بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَاجِيَةَ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، ثنا أَبِي، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ سَأَلَ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ عَنِ الصَّلَاةِ عَلَى الْمَيِّتِ، فَقَالَ: " أَنَا وَاللهِ أُخْبِرُكَ تَبْدَأُ فَتُكَبِّرُ، ثُمَّ تُصَلِّي عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتَقُولُ: اللهُمَّ إِنَّ عَبْدَكَ فُلَانًا كَانَ لَا يُشْرِكُ بِكَ شَيْئًا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ، إِنْ كَانَ مُحْسِنًا فَزِدْ فِي إِحْسَانِهِ، وَإِنْ كَانَ مُسِيئًا فَتَجَاوَزْ عَنْهُ اللهُمَّ لَا تَحْرِمْنَا أَجْرَهُ وَلَا تُضِلَّنَا بَعْدَهُ ".سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے نمازِ جنازہ کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں خبر دوں گا جب تو آغاز کرے گا، تو تکبیر کہے گا، پھر تو نبی ﷺ پر درود پڑھے گا اور تو کہے گا: «اللَّهُمَّ إِنَّ عَبْدَكَ فُلَانًا كَانَ لَا يُشْرِكُ بِكَ شَيْئًا وَأَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ، إِنْ كَانَ مُحْسِنًا فَزِدْ فِي إِحْسَانِهِ، وَإِنْ كَانَ مُسِيئًا فَتَجَاوَزْ عَنْهُ، اللَّهُمَّ لَا تَحْرِمْنَا أَجْرَهُ، وَلَا تُضِلَّنَا بَعْدَهُ» ”اے اللہ! یہ تیرا فلاں بندہ تیرے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا تھا تو خوب جانتا ہے اگر وہ نیک تھا تو اس کی نیکی میں اضافہ فرما اور اگر وہ خطا وار ہے تو اس سے تجاوز کر، اے اللہ! ہمیں اس کے اجر سے محروم نہ کرنا اور اس کے بعد ہمیں گمراہ نہ کرنا۔“