السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: ما يستدل به على أن أكثر الصحابة اجتمعوا على أربع ورأى بعضهم الزيادة منسوخة باب: اس بات کے دلائل کا بیان کہ اکثر صحابہ کرام چار تکبیروں پر متفق ہو گئے تھے اور ان میں سے بعض نے اس پر اضافے کو منسوخ سمجھا ہے
حدیث نمبر: 6946
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْبَغَوِيُّ، بِبَغْدَادَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ، يُحَدِّثُ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: " كُلُّ ذَلِكَ قَدْ كَانَ أَرْبَعًا وَخَمْسًا فَاجْتَمَعْنَا عَلَى أَرْبَعٍ فِي التَّكْبِيرِ عَلَى الْجِنَازَةِ ".حافظ ثناء اللہ
عمرو بن مرہ فرماتے ہیں: میں نے سعید بن مسیب سے سنا، وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: ”تمام تکبیرات کہی جاتی تھیں، چار بھی، پانچ بھی۔ پھر ہم نے جنازے کے لیے چار پر اجماع کیا۔“