السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: دفن الاثنين والثلاثة في قبر عند الضرورة وتقديم أفضلهم وأقرئهم باب: بوقت ضرورت دو یا تین افراد کو ایک ہی قبر میں دفن کرنے اور ان میں سے سب سے افضل اور قرآن کے سب سے بڑے قاری کو آگے رکھنے کا بیان
حدیث نمبر: 6927
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ شَكَوْا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْقَرْحَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ يَشْتَدُّ عَلَيْنَا الْحَفْرُ لِكُلِّ إِنْسَانٍ، قَالَ: " أَعْمِقُوا وَأَحْسِنُوا وَادْفِنُوا الِاثْنَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ فِي قَبْرٍ "، فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللهِ فَمَنْ نُقَدِّمُ، قَالَ: " أَكْثَرُهُمْ قُرْآنًا "، قَالَ فَدُفِنَ أَبِي ثَالِثَ ثَلَاثَةٍ فِي قَبْرٍ " وَقَدْ قِيلَ عَنْهُ عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ہشام بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ لوگوں نے احد کے دن رسول اللہ ﷺ کے پاس زخموں کی شکایت کی کہ ہر بندے کے لیے گڑھا کھودنا مشکل ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اچھی طرح گہرے کرو اور ایک قبر میں دو، تین کو دفن کرو۔“ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم پہلے کسے لحد میں اتاریں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو ان میں سب سے زیادہ قرآن والا ہے۔“ سو میرے والد کو دفن کیا گیا اور وہ تین میں تیسرے تھے۔