السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: دفن الاثنين والثلاثة في قبر عند الضرورة وتقديم أفضلهم وأقرئهم باب: بوقت ضرورت دو یا تین افراد کو ایک ہی قبر میں دفن کرنے اور ان میں سے سب سے افضل اور قرآن کے سب سے بڑے قاری کو آگے رکھنے کا بیان
حدیث نمبر: 6925
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَلِيمِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْمُونٍ، أنبأ أَبُو الْمُوجَّهِ، أنبأ عَبْدَانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ، ثنا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَجْمَعُ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ مِنْ قَتْلَى أُحُدٍ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، ثُمَّ يَقُولُ: " أَيُّهُمْ أَكْثَرُ أَخْذًا لِلْقُرْآنِ؟ " فَإِذَا ⦗٥٥⦘ أُشِيرَ إِلَى أَحَدِهِمَا قَدَّمَهُ فِي اللَّحْدِ، وَقَالَ " أَنَا شَهِيدٌ عَلَى هَؤُلَاءِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ "، وَأَمَرَ بِدَفْنِهِمْ بِدِمَائِهِمْ، وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِمْ، وَلَمْ يُغَسِّلْهُمْ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُقَاتِلٍ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ وَفِيهِ بَعْضُ الِاخْتِصَارِ، وَرَوَاهُ بِطُولِهِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، وَقُتَيْبَةَ، عَنِ اللَّيْثِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے احد کے مقتولین میں دو دو، تین تین کو ایک کپڑے میں دفن کیا، پھر آپ ﷺ فرماتے: ”ان میں سے زیادہ قرآن یاد کرنے والا کون ہے؟“ جب ان میں سے ایک کی طرف اشارہ کیا جاتا تو آپ ﷺ اسے لحد میں آگے کرتے اور فرماتے: ”میں ان پر قیامت کے دن گواہ ہوں گا“، اور ان کو خون سمیت دفن کرنے کا حکم دیا، نہ جنازہ پڑھا اور نہ ہی غسل دیا۔