السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: حجة من زعم أن القيام للجنازة منسوخ باب: اس شخص کی دلیل کا بیان جس کا خیال ہے کہ جنازے کے لیے کھڑا ہونا منسوخ ہے
حدیث نمبر: 6889
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا طَاهرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّبَيْرِيُّ، ثنا أَبِي، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، أَنَّ جِنَازَةً مَرَّتْ بِابْنِ عَبَّاسٍ، وَالْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فَقَامَ أَحَدُهُمَا وَلَمْ يَقُمِ الْآخَرُ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا: أَلَمْ يَقُمِ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ الْآخَرُ: بَلَى، ثُمَّ قَعَدَ.حافظ ثناء اللہ
ابو مجلز فرماتے ہیں کہ ابن عباس اور حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے پاس سے ایک جنازہ گزرا۔ ایک ان میں سے کھڑا ہو گیا اور دوسرا نہ کھڑا ہوا تو ایک نے کہا: کیا نبی ﷺ کھڑے نہیں ہوئے تھے؟ تو دوسرے نے کہا: کیوں نہیں مگر بعد میں بیٹھ گئے تھے۔