السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: المشي أمام الجنازة باب: جنازے کے آگے چلنے کا بیان
حدیث نمبر: 6862
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْأَحْمَسِيُّ، ثنا الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ سَعْدِ بْنِ طَارِقٍ الْأَشْجَعِيِّ، قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي حَازِمٍ: هَلْ حَفِظْتَ جِنَازَةً مَشَى مَعَهَا قَوْمٌ مِنَ الْفُقَهَاءِ أَمَامَهَا؟ قَالَ: نَعَمْ رَأَيْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، وَحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ، وَابْنَ الزُّبَيْرِ يَمْشُونَ أَمَامَهَا حَتَّى وُضِعَتْ.حافظ ثناء اللہ
سعد بن طارق اشجعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے ابو حازم رحمہ اللہ سے کہا: کیا آپ کو کوئی واقعہ یاد ہے کہ جنازے کے ساتھ فقہاء اور ائمہ نے شمولیت کی ہو؟ تو انہوں نے کہا: ہاں، میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، حسن بن علی رضی اللہ عنہما اور ابن زبیر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ اس کے آگے چل رہے تھے حتیٰ کہ اسے رکھ دیا گیا۔