السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: المشي أمام الجنازة باب: جنازے کے آگے چلنے کا بیان
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو ذَرٍّ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَفَدَةُ أَبِي الْقَاسِمِ الْمُذَكِّرِ، قَالَا: ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الدَّرَابَجِرْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ثنا هَمَّامٌ، عَنْ سُفْيَانَ يَعْنِي ابْنُ عُيَيْنَةَ، وَمَنْصُورٌ، وَزِيَادٌ، وَبَكْرٌ، كُلُّهُمْ ذَكَرَ أَنَّهُ: سَمِعَ مِنَ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ سَالِمًا أَخْبَرَهُ: أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ، وَأَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ، وَعُثْمَانَ: يَمْشُونَ بَيْنَ يَدَيِ الْجِنَازَةِ غَيْرَ أَنَّ بَكْرًا لَمْ يَذْكُرْ عُثْمَانَ تَفَرَّدَ بِهِ هَمَّامُ وَهُوَ ثِقَةٌ، وَاخْتُلِفَ فِيهِ عَلَى عَقِيلٍ، وَيُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، فَقِيلَ عَنْ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَنِ الزُّهْرِيِّ، مَوْصُولًا وَقِيلَ مُرْسَلًا وَمَنْ وَصَلَهُ وَاسْتَقَرَّ عَلَى وَصْلِهِ، وَلَمْ يُخْتَلَفْ عَلَيْهِ فِيهِ وَهُوَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ حُجَّةٌ ثِقَةٌ وَاللهُ أَعْلَمُ.امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سالم اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ جنازے کے آگے چل رہے تھے۔
البتہ بکر نے عثمان کا تذکرہ نہیں کیا، اس کو صرف ہمام نے بیان کیا ہے اور وہ ثقہ ہیں، اور اس میں عقیل اور یونس بن یزید کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے، ان دونوں میں سے ہر ایک سے زہری کے واسطے سے موصول بھی کہا گیا ہے اور مرسل بھی، اور جس نے اسے موصول بیان کیا اور اس کے موصول ہونے پر قائم رہا اور اس پر اس میں کوئی اختلاف نہیں کیا گیا، وہ سفیان بن عیینہ ہیں جو حجت اور ثقہ ہیں، واللہ اعلم۔