السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: السقط يغسل ويكفن ويصلى عليه إن استهل أو عرفت له حياة باب: کچے گرے ہوئے بچے کو غسل دیا جائے گا، کفن پہنایا جائے گا اور اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی اگر وہ رویا ہو یا اس کی زندگی کا کوئی نشان پایا گیا ہو
حدیث نمبر: 6791
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ: " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ: صَلَّى عَلَى ابْنِهِ إِبْرَاهِيمَ حِينَ مَاتَ فَهَذِهِ الْآثَارُ وَإِنْ كَانَتْ مَرَاسِيلَ فَهِيَ تَشُدُّ الْمَوصُولَ قَبْلَهُ، وَبَعْضُهَا يَشُدُّ بَعْضًا، وَقَدْ أثْبَتُوا صَلَاةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ عَلَى ابْنِهِ إِبْرَاهِيمَ وَذَلِكَ أَوْلَى مِنْ رِوَايَةِ مَنْ رَوَى أَنَّهُ لَمْ يُصَلَّ عَلَيْهِ.حافظ ثناء اللہ
حضرت جعفر بن محمد رحمہ اللہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ جب آپ ﷺ کا بیٹا سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ فوت ہوا تو آپ ﷺ نے اس کا جنازہ پڑھا۔
یہ آثار اگرچہ مرسل ہیں لیکن یہ اپنے سے پہلے والی موصول روایت کو مضبوط کرتے ہیں اور ایک دوسرے کو تقویت دیتے ہیں اور انہوں نے آپ ﷺ کا اپنے بیٹے سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کی نمازِ جنازہ پڑھنا ثابت کر دیا اور یہ اس شخص کی روایت سے بہتر ہے جس نے روایت کیا کہ ان کی نماز جنازہ نہیں پڑھی گئی۔