السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: الإنسان يموت في البحر باب: سمندر میں فوت ہو جانے والے شخص کا بیان
حدیث نمبر: 6774
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا عَفَّانُ، حَدَّثَنِي حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ، وَثَابِتٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ فِيهِ: " فَرَكِبَ الْبَحْرَ فَمَاتَ، فَلَمْ يَجِدُوا لَهُ جَزِيرَةً إِلَّا بَعْدَ سَبْعَةِ أَيَّامٍ، فَدَفَنُوهُ فِيهَا وَلَمْ يَتَغَيَّرْ " وَرُوِّينَا عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ أَنَّهُ قَالَ: يُغَسَّلُ وَيُكَفَّنُ وَيُصَلَّى عَلَيْهِ وَيُطْرَحُ فِي الْبَحْرِ، وَفِي رِوَايَةٍ أُخْرَى: " جُعِلَ فِي زِنْبِيلٍ، ثُمَّ قُذِفَ بِهِ فِي الْبَحْرِ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا واقعہ بیان کیا اور اس میں کہا کہ وہ (ابوطلحہ رضی اللہ عنہ) سمندر میں سوار ہوئے اور فوت ہو گئے۔ ان کے ساتھیوں نے انہیں دفن کرنے کے لیے کوئی جزیرہ نہ پایا مگر سات دن بعد، تو انہوں نے اسی میں انہیں دفن کر دیا اور ان (کے جسم) میں کوئی تبدیلی نہ آئی تھی۔
حسن بصری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اسے غسل دیا جائے گا اور کفن پہنایا جائے گا اور نمازِ جنازہ ادا کرنے کے بعد سمندر میں پھینک دیا جائے گا۔ اور ایک دوسری روایت میں ہے: ”اسے ایک ٹوکری میں رکھ کر سمندر میں ڈال دیا جائے۔“