❮
❯
حدیث نمبر: 6765
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ثنا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، أَمْلَاهُ عَلَيْنَا، ثنا أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ شَيْبَانُ، عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ، ⦗٧⦘ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَشِيرٍ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ سُلَيْمٍ أُمِّ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا تُوُفِّيَتِ الْمَرْأَةُ فَأَرَادُوا أَنْ يُغَسِّلُوهَا، فَلْيُبْدَأْ بِبَطْنِهَا فَلْيُمْسَحْ بَطْنُهَا مَسْحًا رَفِيقًا إِنْ لَمْ تَكُنْ حُبْلَى، فَإِنْ كَانَتْ حُبْلَى فَلَا تُحَرِّكِيهَا، فَإِذَا أَرَدْتِ غَسْلَهَا فَابْدَئِي بِأَسْفَلِهَا، فَأَلْقِي عَلَى عَوْرَتِهَا ثَوْبًا سِتِّيرًا، ثُمَّ خُذِي كُرْسُفًا، فَاغْسِلِيهَا فَأَحْسِنِي غَسْلَهَا، ثُمَّ أَدْخِلِي يَدَكِ مِنْ تَحْتِ الثَّوْبِ فَامْسَحِيهَا بِكُرْسُفٍ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَأَحْسِنِي مَسْحَهَا قَبْلَ أَنْ تُوَضِّئِيهَا، ثُمَّ وَضِّئِيهَا بِمَاءٍ فِيهِ سِدْرٌ، وَلْتُفْرِغِ الْمَاءَ امْرَأَةٌ، وَهِيَ قَائِمَةٌ لَا تَلِي شَيْئًا غَيْرَهُ، وَلْيَلِ غُسْلَهَا أَوْلَى النَّاسِ بِهَا، وَإِلَّا فَامْرَأَةٌ وَرِعَةٌ، فَإِنْ كَانَتْ صَغِيرَةً أَوْ ضَعِيفَةً فَلْتُغَسِّلْهَا امْرَأَةٌ أُخْرَى مُسْلِمَةٌ وَرِعَةٌ، فَإِذَا فَرَغَتْ مِنْ غَسْلِ سُفْلَتِهَا غَسْلًا نَقِيًّا بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، فَهَذَا بَيَانُ وُضُوئِهَا، ثُمَّ اغْسِلِيهَا بَعْدَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَابْدَئِي بِرَأْسِهَا قَبْلَ كُلِّ شَيْءٍ، وَأَنْقِي كُلَّ غِسْلَةٍ مِنَ السِّدْرِ بِالْمَاءِ، وَلَا تُسَرِّحِي رَأْسَهَا، بِمُشْطٍ فَإِنْ حَدَثَ مِنْهَا حَدَثٌ بَعْدَ الْغَسَلَاتِ الثَّلَاثِ فَاجْعَلِيهَا خَمْسًا، وَإِنْ حَدَثَ بَعْدَ الْخَمْسِ، فَاجْعَلِيهَا سَبْعًا، وَكُلُّ ذَلِكَ فَلْيَكُنْ وِتْرًا بِمَاءٍ وَسِدْرٍ حَتَّى لَا يَرِيبَكِ شَيْءٌ، فَإِذَا كَانَ فِي آخِرِ غَسْلَةٍ فِي الثَّالِثَةِ أَوْ غَيْرِهَا فَاجْعَلِي شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ وَشَيْئًا مِنْ سِدْرٍ، ثُمَّ اجْعَلِي ذَلِكَ فِي جَرَّةٍ جَدِيدَةٍ، ثُمَّ أَقْعِدِيهَا فَأَفْرِغِي عَلَيْهَا، وَابْدَئِي بِرَأْسِهَا حَتَّى تَبْلُغِي رِجْلَيْهَا، فَإِذَا فَرَغْتِ مِنْهَا فَأَلْقِي عَلَيْهَا ثَوْبًا نَظِيفًا، ثُمَّ أَدْخِلِي يَدَكِ مِنْ وَرَاءِ الثَّوْبِ فَانْزِعِيهِ عَنْهَا، هَذَا بَيَانُ الْغُسْلِ، ثُمَّ احْشِي سُفْلَتَهَا كُرْسُفًا مَا اسْتَطَعْتِ، ثُمَّ امْسَحِي كُرْسُفَهَا مِنْ طِيبِهَا، ثُمَّ خُذِي سَبَنِيَّةً طَوِيلَةً مَغْسُولَةً فَارْبِطِيهَا عَلَى عَجُزِهَا كَمَا يُرْبَطُ النِّطَاقُ، ثُمَّ اعْقِدِيهَا بَيْنَ فَخِذَيْهَا وَضُمِّي فَخِذَيْهَا، ثُمَّ أَلْقِي طَرَفَ السَّبَنِيَّةِ مِنْ عِنْدِ عَجُزِهَا إِلَى قَرِيبٍ مِنْ رُكْبَتِهَا، فَهَذَا بَيَانُ سُفْلَتِهَا، ثُمَّ طَيِّبِيهَا وَكَفِّنِيهَا وَاضْفِرِي شَعْرَهَا ثَلَاثَةَ قُرُونٍ قُصَّةً وَقَرْنَيْنِ، وَلَا تُشَبِّهِيهَا بِالرِّجَالِ وَلْيَكُنْ كَفَنُهَا خَمْسَةَ أَثْوَابٍ، إِحْدَاهُنَّ الَّذِي تَلُفُّ فَخِذَيْهَا وَلَا تَنْقُصِي مِنْ شَعْرِهَا شَيْئًا يَعْنِي بِنَوْرَةٍ وَلَا غَيْرِهَا وَمَا سَقَطَ مِنْ شَعْرِهَا فَاغْسِلِيهِ، ثُمَّ أَعِيدِيهِ فِي شَعْرِ رَأْسِهَا أَوْ قَالَ: اغْرِزِيهِ وَطَيِّبِي شَعْرَ رَأْسِهَا، وَأَحْسِنِي تَطْيِيبَهُ إِنْ شِئْتِ، وَاجْعَلِي كُلَّ شَيْءٍ مِنْهَا وِتْرًا، وَلَا تَنْسَيْ ذَلِكَ، فَإِنْ بَدَا لَكِ أَنْ تُجَمِّرِيهَا فِي نَعْشِهَا فَاجْعَلِيهِ نُبْذَةً وَاحِدَةً حَتَّى يَكُونَ⦗٨⦘ وِتْرًا، هَذَا بَيَانُ كَفَنِهَا وَرَأْسِهَا، وَإِنْ كَانَتْ مَجْدُورَةً أَوْ مَخْضُوبَةً أَوْ أَشْبَاهَ ذَلِكَ فَخُذِي خِرْقَةً وَاسِعَةً فَاغْسِلِيهَا فِي الْمَاءِ "، وَفِي غَيْرِ هَذِهِ الرِّوَايَةِ، " فَاغْمِسِيهَا فِي الْمَاءِ "، ثُمَّ فِي رِوَايَتِنَا، " وَاجْعَلِي تَتَبَّعِي كُلَّ شَيْءٍ مِنْهَا، وَلَا تُحَرِّكِيهَا، فَإِنِّي أَخْشَى أَنْ يَنْفَجِرَ مِنْهَا شَيْءٌ لَا يُسْتَطَاعُ رَدُّهُ " هَذَا لَفْظُ ابْنِ خُزَيْمَةَ، وَحَدِيثُ الصَّغَانِيِّ انْتَهَى عِنْدَ قَوْلِهِ: " وَلْيَكُنْ كَفَنُهَا خَمْسَةً " رَوَاهُ أَبُو عِيسَى التِّرْمِذِيُّ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ غَيْلَانَ، فَزَادَ عِنْدَ قَوْلِهِ: " وَأَحْسِنِي تَطْيِيبَهُ وَلَا تَغْسِلِيهِ بِمَاءٍ سَخِنٍ وَأَجْمِرِيهَا بَعْدَ مَا تُكَفِّنِيهَا بِسَبْعٍ إِنْ شِئْتِ "، وَكَأَنَّهُ سَقَطَ مِنْ كِتَابِ شْيخِي.
حافظ ثناء اللہ

سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا، انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی والدہ، کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب کوئی عورت فوت ہو جائے اور وہ اسے غسل دینا چاہیں تو اس کے پیٹ سے آغاز کیا جائے اور اس کے پیٹ کو نرمی سے دبایا جائے اگر وہ حاملہ نہ ہو۔ اگر وہ حاملہ ہو تو پھر اسے حرکت نہ دینا اور جب اس کے غسل کا ارادہ کرو تو اس کے نچلے حصے سے آغاز کرو اور اس کے ستر پر پردہ کرنے والا کپڑا ڈالو۔ پھر روئی لے کر اسے دھوؤ اور اچھی طرح دھوؤ۔ پھر اپنے ہاتھ کو کپڑے کے نیچے سے داخل کرو اور اسے وضو کرانے سے پہلے روئی کے ساتھ تین مرتبہ اچھی طرح صاف کرو۔ پھر اسے ایسے پانی سے وضو کراؤ جس میں بیری ہو اور چاہیے کہ ایک عورت کھڑی ہو کر پانی انڈیلے اور اس کے سوا کوئی اور کام نہ کرے، اور اسے غسل وہ دے جو اس کی سب سے قریبی رشتہ دار ہو وگرنہ کوئی پرہیزگار عورت۔ اگر وہ (قریبی رشتہ دار) چھوٹی یا کمزور ہو تو پھر اسے کوئی دوسری پرہیزگار مسلمان عورت غسل دے۔ پس جب وہ اس کے نچلے حصے کو پانی اور بیری کے ساتھ اچھی طرح صاف کرنے سے فارغ ہو جائے تو یہ اس کے وضو کا بیان ہے۔ پھر اس کے بعد پانی اور بیری کے ساتھ تین مرتبہ غسل دو اور سب سے پہلے اس کے سر سے آغاز کرو اور ہر غسل میں بیری کو پانی سے صاف کر دو اور اس کے بالوں کو کنگھے سے نہ سنوارو۔ اگر تین مرتبہ دھونے کے بعد کوئی حدث ظاہر ہو تو پھر اسے پانچ مرتبہ کر لو۔ اگر پانچ کے بعد بھی حدث ہو تو پھر سات مرتبہ کرو اور یہ سب طاق عدد میں پانی اور بیری کے ساتھ ہو یہاں تک کہ تمہیں کوئی شک نہ رہے۔ اور جب آخری غسل ہو، تیسرا یا کوئی اور، تو اس میں کچھ کافور اور کچھ بیری ملاؤ۔ پھر اسے نئے مٹکے میں ڈالو، پھر اسے بٹھا کر اس پر پانی بہاؤ، اس کا آغاز سر سے کرو یہاں تک کہ پاؤں تک پہنچ جاؤ۔ جب اس سے تم فارغ ہو جاؤ تو اس پر صاف کپڑا ڈالو۔ پھر اپنے ہاتھ کو کپڑے کے پیچھے سے ڈالو اور (پہلا) کپڑا اس سے کھینچ لو۔ یہ ہے غسل کا بیان۔ پھر جتنا ہو سکے اس کے نچلے حصے میں روئی بھر دو۔ پھر اس کی روئی کو اس کی خوشبو لگاؤ۔ پھر ایک لمبی دھلی ہوئی (سبنیہ) چادر لو اور اسے اس کی کمر پر باندھو جیسے کمر بند باندھا جاتا ہے۔ پھر اس کی رانوں کے درمیان گرہ لگاؤ اور اس کی رانوں کو ملا دو۔ پھر اس چادر کا کنارہ کمر سے گھٹنے کے قریب تک ڈال دو، یہ اس کے نچلے حصے کا بیان ہے۔ پھر اسے خوشبو لگاؤ اور کفن پہناؤ اور اس کے بالوں کی تین مینڈھیاں بناؤ: ایک پیشانی کی اور دو اطراف کی، اور اسے مردوں کے مشابہ نہ بناؤ اور چاہیے کہ اس کا کفن پانچ کپڑوں میں ہو۔ ان میں سے ایک وہ جو اس کی رانوں کو لپیٹے، اور اس کے بالوں میں سے کچھ کم نہ کرو، یعنی چونے سے اور نہ کسی اور چیز سے، اور جو اس کے بالوں میں سے گرے اسے دھو کر اس کے سر کے بالوں میں واپس رکھ دو، یا فرمایا: اسے (بالوں میں) اڑس دو، اور سر کے بالوں کو خوشبو لگاؤ اور اگر چاہو تو اچھی طرح لگاؤ اور اس کا ہر کام طاق عدد میں کرو، اس بات کو نہ بھولنا۔ پھر اگر تم اسے اس کی چارپائی پر دھونی دینا چاہو تو ایک ہی مرتبہ دینا تاکہ طاق ہو جائے، یہ اس کے کفن اور سر کا بیان ہے۔ اگر اسے چیچک ہو یا مہندی لگی ہو یا اس طرح کی کوئی اور حالت ہو تو کپڑے کا ایک بڑا ٹکڑا لے کر اسے پانی میں دھو لو۔“
ایک دوسری روایت میں ہے: ”اسے پانی میں ڈبو لو“ اور پھر ہماری روایت میں ہے: ”اس کے ہر حصے کا خیال رکھو مگر اسے حرکت نہ دو، کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ اس سے کوئی ایسی چیز نہ بہہ پڑے جسے روکا نہ جا سکے۔“ یہ ابن خزیمہ کے الفاظ ہیں اور صغانی کی حدیث ”اور چاہیے کہ اس کا کفن پانچ کپڑوں میں ہو“ کے الفاظ پر ختم ہو گئی۔
امام ابو عیسیٰ ترمذی رحمہ اللہ نے اسے محمود بن غیلان رحمہ اللہ سے روایت کیا اور ”اچھی طرح خوشبو لگاؤ“ کے الفاظ کے پاس یہ اضافہ کیا: ”اور اسے گرم پانی سے نہ دھوؤ اور اگر چاہو تو کفن پہنانے کے بعد اسے سات مرتبہ دھونی دو۔“ گویا یہ میرے شیخ کی کتاب سے رہ گیا ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6765
درجۂ حدیث محدثین: منكر
تخریج حدیث «منكر۔ أخرجه الطبراني»