السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: إعلام القبر بصخرة أو علامة ما كانت باب: قبر پر پتھر یا کسی بھی چیز کی علامت لگانے کا بیان
حدیث نمبر: 6744
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْفَضْلِ السِّجِسْتَانِيُّ، ثنا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، بِمَعْنَاهُ عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ الْمَدَنِيِّ، عَنِ الْمُطَّلِبِ قَالَ: " لَمَّا مَاتَ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ أُخْرِجَ بِجِنَازَتِهِ فَدُفِنَ، أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا أَنْ يَأْتِيَهُ بِحَجَرٍ، فَلَمْ يَسْتَطِعْ حَمْلَهُ، فَقَامَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَسَرَ عَنْ ذِرَاعَيْهِ ". قَالَ كَثِيرٌ: قَالَ الْمُطَّلِبُ: قَالَ الَّذِي يُخْبِرُنِي ذَلِكَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِ ذِرَاعَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ حَسَرَ عَنْهَا، ثُمَّ حَمَلَهَا فَوَضَعَهَا عِنْدَ رَأْسِهِ، وَقَالَ: " لِيُعْلَمَ بِهَا قَبْرُ أَخِي، وَأَدْفِنَ إِلَيْهِ مَنْ مَاتَ مِنْ أَهْلِي ".حافظ ثناء اللہ
حضرت مطلب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ جب سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ فوت ہوئے تو ان کے جنازے کو نکالا گیا اور انہیں دفن کیا گیا تو نبی کریم ﷺ نے ایک آدمی کو حکم دیا کہ وہ پتھر لائے، وہ اسے اٹھانے کی طاقت نہیں رکھتا تھا، پھر آپ ﷺ اس کی طرف کھڑے ہوئے اور اپنے بازوؤں سے کپڑا ہٹایا۔ کثیر کہتے ہیں: مطلب نے کہا: جس نے مجھے خبر دی اس نے کہا: گویا میں رسول اللہ ﷺ کے بازوؤں کی سفیدی دیکھ رہا ہوں جب آپ ﷺ نے کپڑا ہٹایا، پھر اسے اٹھایا اور ان کے سر کے پاس رکھا اور فرمایا: ”تاکہ اس سے میرے بھائی کی قبر پہچانی جائے اور جو اس کے اہل میں سے فوت ہو اس کے پاس دفن کیا جائے۔“