السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: عَقْدُ الكَفَنِ خَشْيَةَ انْتِشَارِهِ، وَحَلِّهِ عِنْدَ إِدْخَالِ الْمَيِّتِ فِي الْقَبْرِ باب: کفن کے کھلنے کے ڈر سے اسے گرہ لگانا اور جب قبر میں داخل کیا جائے تو کھول دینا
حدیث نمبر: 6715
أَنْبَأَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، إِجَازَةً أَنَّ أَبَا الْوَلِيدِ، أَخْبَرَهُمْ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ سَيَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنِي عُثْمَانُ ابْنُ أَخِي سَمُرَةَ، قَالَ: مَاتَ ابْنٌ لِسَمُرَةَ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ: فَقَالَ: " انْطَلِقْ بِهِ إِلَى حُفْرَتِهِ، فَإِذَا وَضَعْتَهُ فِي لَحْدِهِ فَقُلْ: بِسْمِ اللهِ، وَعَلَى سُنَّةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ أَطْلِقْ عَقْدَ رَأْسِهِ وَعَقْدَ رِجْلَيْهِ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ کے بھیجے ہوئے عثمان بیان کرتے ہیں کہ سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ کا بیٹا فوت ہو گیا تو انہوں نے مجھ سے کہا: میرے ساتھ اس کی قبر تک چل، جب تو اسے لحد میں رکھے تو کہنا: «بِسْمِ اللّٰهِ وَعَلٰی سُنَّةِ رَسُولِ اللّٰهِ» ”اللہ کے نام کے ساتھ اور رسول اللہ ﷺ کی سنت پر“ پھر تو کھول دے اس کے سر کی گرہ اور پاؤں کی گرہ کو۔