السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: بيان عائشة رضي الله عنها بسبب الاشتباه في ذلك على غيرها باب: عائشہ رضی اللہ عنہا کا اس کی وجہ بیان کرنا کہ دوسروں کو اس میں کیسے اشتباہ ہوا
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ، أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنُ الشَّرْقِيِّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ قَالَ: حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ قَالَ: حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: " أُدْرِجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَوْبِ حِبَرَةٍ، ثُمَّ أُخِّرَ عَنْهُ ". قَالَ الْقَاسِمُ: " إِنَّ بَقَايَا ذَلِكَ الثَّوْبِ عِنْدَنَا بَعْدُ ". قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: فَالَّذِي بَاعَ عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ وَتَصَدَّقَ بِثَمَنِهِ هُوَ الْحُلَّةَ، وَالْحُلَّةُ عِنْدَهُمْ ثَوْبَانِ، وَالَّذِي قَالَ الْقَاسِمُ: إِنَّ بَقَايَاهُ عِنْدَنَا، هُوَ الثَّوْبُ الثَّالِثُ الَّذِي زَعَمُوا أَنَّهُ كُفِّنَ فِيهِمَا وَفِيهِ، فَبَيَّنَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا بَيَانًا شَافِيًا أَنَّهُ أُتِيَ بِالثَّوْبَيْنِ اللَّذَيْنَ كَانُوا يُسَمُّونَهُمَا حُلَّةً وَبِبُرْدِ حِبَرَةٍ فَلَمْ يُكَفَّنْ فِيهَا، وَكُفِّنَ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ بِيضٍ كُرْسُفٍ لَيْسَ فِيهَا قَمِيصٌ وَلَا عِمَامَةٌ، وَاللهُ أَعْلَمُ.سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ کو حبری کپڑے میں لپیٹا گیا، پھر اسے آپ ﷺ سے ہٹا لیا گیا۔ قاسم رحمہ اللہ کہتے ہیں: اس کا باقی حصہ ہمارے پاس ہے۔ شیخ رحمہ اللہ کہتے ہیں: جسے عبداللہ بن ابی بکر رضی اللہ عنہما نے بیچا اور اس کی قیمت صدقہ کر دی، وہ حلہ تھا، اور ان کے ہاں حلہ دو کپڑوں کو کہتے ہیں، اور جس کے بارے میں قاسم رحمہ اللہ نے کہا: اس کا بقایا ہمارے پاس ہے، وہ تیسرا کپڑا ہے جس کے بارے میں لوگوں کا خیال تھا کہ آپ ﷺ کو ان دو کپڑوں اور اس میں کفن دیا گیا، سو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوری وضاحت کر دی کہ وہ دو کپڑے جنہیں وہ حلہ کہتے تھے اور ایک یمنی (حبری) چادر لائی گئی تھی جن میں کفن نہ دیا گیا بلکہ روئی کے تین سفید کپڑوں میں کفن دیا گیا جن میں قمیض اور عمامہ نہیں تھا۔ واللہ اعلم۔