حدیث نمبر: 6673
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: " لَمَّا اشْتَدَّ مَرَضُ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَكَيْتُ فَأُغْمِيَ عَلَيَّ، فَقُلْتُ:.
حافظ ثناء اللہ

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا، نبی کریم ﷺ کی زوجہ بیان کرتی ہیں کہ جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیماری شدت اختیار کر گئی تو میں اس غم و پریشانی کی وجہ سے رو دی اور میں نے کہا: جس کے آنسو ہمیشہ گرتے رہتے تھے آج وہ خود یکبارگی پچھاڑ دیا گیا ہے۔ وہ کہتی ہیں: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کچھ ہوش میں آئے تو گویا ہوئے کہ ”بات ایسے نہیں جیسے تو کہہ رہی ہے، اے میری بیٹی! لیکن یہ تو ﴿وَجَاءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ذَلِكَ مَا كُنْتَ مِنْهُ تَحِيدُ﴾ [سورة ق: 19] موت کا وقت آ چکا ہے اور یہ اس کی بے ہوشیاں ہیں جس سے میں بھاگ نہیں سکتا۔“ پھر انہوں نے کہا: ”رسول اللہ ﷺ کس دن فوت ہوئے؟“ کہتی ہیں: میں نے کہا: پیر کے دن۔ پھر انہوں نے کہا: ”آج کون سا دن ہے؟“ میں نے کہا: پیر کا دن۔ تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”بے شک میں امید کرتا ہوں، میرے اور اس کے درمیان ایک رات ہے۔“ وہ کہتی ہیں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ منگل کی رات فوت ہوئے اور صبح ہونے سے پہلے دفن کر دیے گئے اور انہوں نے یہ کہا: ”رسول اللہ ﷺ کو کتنے کپڑوں میں کفن دیا گیا؟“ وہ کہتی ہیں: ”ہم نے آپ ﷺ کو تین کپڑوں میں کفن دیا جو سحولیہ تھے اور سفید تھے، ان میں قمیص اور عمامہ نہیں تھا۔“ وہ کہتی ہیں کہ انہوں نے کہا: ”میرے کپڑوں کو دھو ڈالو اور انہیں زعفران لگا دینا یا (کستوری) اور ان کے ساتھ مجھے کفن دے دینا۔ نئے کپڑے کے زیادہ محتاج زندہ لوگ ہیں، بے شک وہ تو مہلت کے لیے تھے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6673
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ البخاري»