السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: المرأة تموت مع الرجال، ليس معهم امرأة باب: عورت مردوں کے درمیان فوت ہو جائے اور ان کے ساتھ کوئی (دوسری) عورت نہ ہو
حدیث نمبر: 6669
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ، أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ عَبْدُ اللهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ اللُّؤْلُؤِيُّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا هَارُونُ بْنُ عَبَّادٍ، ثنا أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ عَيَّاشٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي سَهْلٍ، عَنْ مَكْحُولٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا مَاتَتِ الْمَرْأَةُ مَعَ الرِّجَالِ لَيْسَ مَعَهُمُ امْرَأَةٌ غَيْرُهَا، وَالرَّجُلُ مَعَ النِّسَاءِ لَيْسَ مَعَهُنَّ رَجُلٌ غَيْرُهُ، فَإِنَّهُمَا يُتَيَمَّمَانِ وَيُدْفَنَانِ، وَهُمَا بِمَنْزِلَةِ مَنْ لَا يَجِدُ الْمَاءَ ". هَذَا مُرْسَلٌ، وَرُوِي عَنْ سِنَانِ بْنِ غَرْفَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي الرَّجُلِ يَمُوتُ مَعَ النِّسَاءِ، وَالْمَرْأَةِ تَمُوتُ مَعَ الرِّجَالِ، لَيْسَ لِوَاحِدٍ مِنْهُمَا مَحْرَمٌ " يُتَيَّمَّمَانِ بِالصَّعِيدِ وَلَا يُغَسَّلَانِ ".حافظ ثناء اللہ
مکحول رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب کوئی عورت مردوں کے ساتھ فوت ہو جائے اور اس کے علاوہ ان کے ساتھ دوسری عورت نہ ہو یا پھر مرد اکیلا عورتوں کے ساتھ ہو اور ان کے ساتھ اس کے علاوہ کوئی دوسرا مرد نہ ہو تو اس صورت میں ان دونوں کو تیمم کروا کے دفن کر دو اور وہ اس کے حکم میں ہیں جن کے پاس پانی نہ ہو۔“
سنان بن غرفہ رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ ”وہ شخص جو عورتوں کے ساتھ اکیلا تھا اور وہ فوت ہو گیا یا ایسے ہی عورت مردوں کے ساتھ اور اس کا کوئی محرم ساتھ نہیں تو ان کو مٹی کے ساتھ تیمم کروایا جائے گا اور غسل نہیں دیا جائے گا۔“