السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: غسل المرأة زوجها باب: عورت کا اپنے شوہر کو غسل دینے کا بیان
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَطَّةَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ رُسْتَةَ، ثنا أَبُو أَيُّوبَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمِنْقَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ ابْنُ أَخِي الزُّهْرِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: " تُوُفِّيَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لَيْلَةَ الثُّلَاثَاءِ لِثَمَانٍ بَقِينَ مِنْ جُمَادَى الْآخِرَةِ سَنَةَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ، وَأَوْصَى أَنْ تُغَسِّلَهُ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ امْرَأَتُهُ، وَأَنَّهَا ضَعُفَتْ فَاسْتَعَانَتْ بِعَبْدِ الرَّحْمَنِ ". وَهَذَا الْحَدِيثُ الْمَوْصُولُ وَإِنْ كَانَ رَاوِيَهُ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ الْوَاقِدِيُّ صَاحِبُ التَّارِيخِ وَالْمَغَازِي فَلَيْسَ بِالْقَوِيِّ، وَلَهُ شَوَاهِدُ مَرَاسِيلُ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ أَنَّ أَسْمَاءَ بِنْتَ عُمَيْسٍ غَسَّلَتْ زَوْجَهَا أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَذَكَرَ بَعْضُهُمْ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَوْصَى بِذَلِكَ.سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ منگل کی رات فوت ہوئے، جمادی الآخرہ کی آٹھ راتیں باقی تھیں اور تیرہ ہجری تھی، انہوں نے وصیت کی کہ انہیں غسل سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا دیں جو ان کی بیوی تھیں اور تب وہ کمزور ہو چکی تھیں اس لیے ان کا تعاون سیدنا عبد الرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ نے کیا۔
یہ موصول حدیث، جبکہ اس کا راوی محمد بن عمر واقدی (صاحب تاریخ و مغازی) ہے، قوی نہیں ہے۔ اس کے کچھ مرسل شواہد ابن ابی ملیکہ سے، اور عطاء بن ابی رباح سے سعد بن ابراہیم سے ہیں کہ سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا نے اپنے خاوند سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو غسل دیا، اور بعض نے ذکر کیا ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کی وصیت کی تھی۔