السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: ما يستحب من إغماض عينيه إذا مات باب: جب وہ فوت ہو جائے تو اس کی آنکھیں بند کر دینے کے مستحب ہونے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، أنبأ مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الْفَزَارِيِّ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: دَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَبِي سَلَمَةَ وَقَدْ شَقَّ بَصَرُهُ، فَأَغْمَضَهُ ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ الرُّوحَ إِذَا قُبِضَ تَبِعَهُ الْبَصَرُ "، فَضَجَّ نَاسٌ مِنْ أَهْلِهِ، فَقَالَ: " لَا تَدْعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ إِلَّا بِخَيْرٍ؛ فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ يُؤَمِّنُونَ عَلَى مَا يَقُولُونَ " ثُمَّ قَالَ: " اللهُمَّ اغْفِرْ لِأَبِي سَلَمَةَ، وَأَرْفَعْ دَرَجَتَهُ فِي الْمَهْدِيِّينَ، وَأَخْلِفْهُ فِي عَقِبِهِ فِي الْغَابِرِينَ، وَاغْفِرْ لَنَا وَلَهُ يَا رَبَّ الْعَالَمِينَ، اللهُمَّ أَفْسِحْ لَهُ فِي قَبْرِهِ، وَنَوِّرْ لَهُ فِيهِ ".سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سیدنا ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے اور ان کی آنکھیں کھلی ہوئی تھیں۔ آپ ﷺ نے ان کی آنکھیں بند کر دیں۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”بیشک جب روح قبض کر لی جاتی ہے تو نگاہیں اس کا پیچھا کرتی ہیں۔“ تو ان کے اہل خانہ چیخ پڑے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے نفسوں کے لیے بھلائی کے سوا کوئی دعا نہ کرو؛ بیشک جو تم کہتے ہو فرشتے اس پر آمین کہتے ہیں۔“ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِأَبِي سَلَمَةَ وَارْفَعْ دَرَجَتَهُ فِي الْمَهْدِيِّينَ، وَاخْلُفْهُ فِي عَقِبِهِ فِي الْغَابِرِينَ، وَاغْفِرْ لَنَا وَلَهُ يَا رَبَّ الْعَالَمِينَ، وَافْسَحْ لَهُ فِي قَبْرِهِ، وَنَوِّرْ لَهُ فِيهِ» ”اے اللہ! ابو سلمہ کو معاف کر دے اور مہدیین میں اس کے درجات بلند فرما اور پیچھے چھوڑے جانے والوں میں اس کا نائب (جانشین) مقرر فرما۔ اے رب العالمین! ہمیں بھی معاف کر دے اور اسے بھی، اے اللہ! اس کی قبر کو کشادہ کر دے اور اس کی قبر کو منور فرما دے۔“