السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: ما يستحب من توجيهه نحو القبلة باب: میت کو قبلہ رخ کرنے کے مستحب ہونے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِيُّ، ثنا جَدِّي، ثنا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ سَأَلَ عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ مَعْرُورٍ، فَقَالُوا: تُوُفِّيَ، وَأَوْصَى بِثُلُثِهِ لَكَ يَا رَسُولَ اللهِ، وَأَوْصَى أَنْ يُوَجَّهَ إِلَى الْقِبْلَةِ لَمَّا احْتُضِرَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَصَابَ الْفِطْرَةَ، وَقَدْ رَدَدْتُ ثُلُثَهُ عَلَى وَلَدِهِ " ثُمَّ ذَهَبَ فَصَلَّى عَلَيْهِ وَقَالَ: " اللهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ، وَأَدْخِلْهُ جَنَّتَكَ، وَقَدْ فَعَلْتَ ".سیدنا عبداللہ بن ابو قتادہ رضی اللہ عنہما اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ جب مدینے آئے تو آپ ﷺ نے براء بن معرور رضی اللہ عنہ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ فوت ہو گئے اور آپ ﷺ کے لیے تہائی مال کی وصیت کی ہے اور یہ بھی وصیت کی کہ جب مجھے موت آئے تو میرے چہرے کو قبلے کی طرف کر دیں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس نے فطرت کو پایا ہے اور میں نے اس کا تہائی حصہ اس کی اولاد کو لوٹا دیا۔“ پھر آپ ﷺ گئے، اس کے لیے دعا کی اور فرمایا: «اللّٰهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ وَأَدْخِلْهُ جَنَّتَكَ، وَقَدْ فَعَلْتَ» ”اے اللہ! اسے بخش دے اور اس پر رحمت کر اور اسے اپنی جنت میں داخل فرما جو تو نے کر دیا ہے۔“