السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: ما يستحب من الكلام عنده باب: اس کے پاس کیسی گفتگو کرنا مستحب ہے اس کا بیان
حدیث نمبر: 6601
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، أنبأ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا حَضَرْتُمُ الْمَيِّتَ فَقُولُوا خَيْرًا؛ فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ يُؤَمِّنُونَ عَلَى مَا تَقُولُونَ " قَالَتْ: فَلَمَّا مَاتَ أَبُو سَلَمَةَ قُلْتُ: كَيْفَ أَقُولُ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: " قُولِي: اللهُمَّ اغْفِرْ لَهُ، وَأَعْقِبْنَا مِنْهُ عُقْبَى صَالِحَةً " قَالَتْ: فَأَعْقَبَنِي اللهُ خَيْرًا مِنْهُ، رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "..حافظ ثناء اللہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول معظم ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میت کے پاس حاضر ہوا کرو تو اچھی بات کہا کرو کیونکہ جو کچھ تم کہتے ہو فرشتے اس پر آمین کہتے ہیں۔“ وہ کہتی ہیں کہ جب ابو سلمہ رضی اللہ عنہ فوت ہوئے تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میں کیا کہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم کہو: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَلَهُ وَأَعْقِبْنِي مِنْهُ عُقْبَى حَسَنَةً» ”اے اللہ! اسے معاف کر دے اور اس کے بعد ہمیں اچھا ساتھ دے۔““ وہ کہتی ہیں کہ پھر اللہ تعالیٰ نے مجھے ان سے بہتر ساتھ رسول اللہ ﷺ کا دیا۔