السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: الأمر بعيادة المريض باب: بیمار کی عیادت (تیمارداری) کرنے کے حکم کا بیان
حدیث نمبر: 6577
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَحْمَوَيْهِ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلَانِسِيُّ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ سُوَيْدٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ يَقُولُ: " أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعٍ: أَمَرَنَا بِعِيَادَةِ الْمَرِيضِ، وَاتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ، وَتَشْمِيتِ الْعَاطِسِ، وَرَدِّ السَّلَامِ، وَإِجَابَةِ الدَّاعِي، وَإِبْرَارِ الْقَسَمِ، وَنَصْرِ الْمَظْلُومِ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ آدَمَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ شُعْبَةَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ”ہمیں سات کاموں کے کرنے کا حکم دیا: 1 بیمار کی عیادت کا، 2 جنازے کے ساتھ جانے کا، 3 چھینک کا جواب دینے کا، 4 سلام کا جواب دینے کا، 5 دعوت کو قبول کرنے کا، 6 بھلائی کا حکم دینے اور 7 مظلوم کی مدد کرنے کا۔“