السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: طوبى لمن طال عمره وحسن عمله باب: اس شخص کے لیے خوشخبری ہے جس کی عمر لمبی ہوئی اور اس کے عمل اچھے ہوئے
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَحْمَدَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ مَيْمُونٍ يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ: سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ خَالِدٍ يَقُولُ: " آخَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ؛ فَقُتِلَ أَحَدُهُمَا وَبَقِيَ الْآخَرُ، ثُمَّ مَاتَ فَصَلَّوْا عَلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا قُلْتُمْ "؟ قَالُوا: دَعَوْنَا اللهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَغْفِرَ لَهُ وَيَرْحَمَهُ، وَيُلْحِقَهُ بِصَاحِبِهِ؛ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَأَيْنَ صَلَاتُهُ بَعْدَ صَلَاتِهِ، وَأَيْنَ عَمَلُهُ بَعْدَ عَمَلِهِ "؟ قَالَ: وَأَظُنُّهُ قَالَ: " وَأَيْنَ صَوْمُهُ بَعْدَ صَوْمِهِ "؟ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لِلَّذِي بَيْنَهُمَا أَبْعَدُ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ". قَالَ عَمْرُو بْنُ مَيْمُونٍ: فَأَعْجَبَنِي هَذَا الْحَدِيثَ لِأَنَّهُ أُسْنِدَ لِي.سیدنا عبید بن خالد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے دو آدمیوں میں مواخاۃ (بھائی چارہ) قائم کی۔ ان میں سے ایک قتل کر دیا گیا اور دوسرا باقی رہا۔ پھر وہ بھی مر گیا تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے اس کی نمازِ جنازہ پڑھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے اس کے متعلق کیا کہا؟“ تو انہوں نے کہا: ہم نے اللہ سے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اسے معاف کر دے اور اس پر رحم کرے اور اسے اپنے بھائی سے ملا دے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس کے بعد کی اس کی نمازیں کہاں گئیں؟ اس کے بعد کے اس کے اعمال کہاں گئے؟“ راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا: ”اس کے بعد اس کے روزے کہاں گئے؟ مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ ان دونوں کے درمیان آسمان و زمین کے برابر فاصلہ ہے۔“