السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: طوبى لمن طال عمره وحسن عمله باب: اس شخص کے لیے خوشخبری ہے جس کی عمر لمبی ہوئی اور اس کے عمل اچھے ہوئے
حدیث نمبر: 6526
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو صَالِحٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ الْكِنْدِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرٍ قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيَّانِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلَانِهِ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا: يَا رَسُولَ اللهِ، أِيُّ النَّاسِ خَيْرٌ؟ قَالَ: " مَنْ طَالَ عُمُرُهُ، وَحَسُنَ عَمَلُهُ "، وَقَالَ الْآخَرُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ شَرَائِعَ الْإِسْلَامِ قَدْ كَثُرَتْ عَلَيَّ، فَأَخْبِرْنِي بِأَمْرٍ أَتَشَبَّثُ بِهِ، قَالَ: " لَا يَزَالُ لِسَانُكَ رَطْبًا بِذِكْرِ اللهِ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ کے پاس دو اعرابی آئے اور سوال کیا۔ ان میں سے ایک نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سے لوگ بہتر ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس کی عمر لمبی اور اعمالِ صالحہ ہوں۔“ پھر دوسرے نے کہا: اے اللہ کے رسول! اسلام کے شرائع (شاخیں) بہت ہیں، مجھے ایک ایسا عمل بتائیں جسے میں چمٹ جاؤں تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیری زبان ہمیشہ اللہ کے ذکر سے تر رہے۔“