السنن الكبرى للبيهقي
كتاب صلاة الاستسقاء— کتاب الاستسقائ
جماع أبواب تارك الصلاة -- باب: ما جاء في تكفير من ترك الصلاة عمدا من غير عذر باب: تارکِ نماز کے ابواب کا جامع بیان -- باب: جس نے جان بوجھ کر بلا عذر نماز چھوڑ دی اس کی تکفیر کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: 6499
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الْخَالِقِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْخَالِقِ الْمُؤَذِّنُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ أَبُو بَكْرِ بْنُ خَنْبٍ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ بُرَيْدَةَ بْنِ الْحُصَيْبِ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْعَهْدُ الَّذِي بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمُ الصَّلَاةُ، فَمَنْ تَرَكَهَا فَقَدْ كَفَرَ ". وَفِي حَدِيثِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالْبَاقِي سَوَاءٌ.حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن بریدہ بن حصیب رضی اللہ عنہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ بے شک رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہمارے اور ان کافروں کے درمیان جو عہد ہے وہ نماز ہے، سو جس نے اسے (نماز کو) چھوڑا، اس نے کفر کیا۔“
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”باقی اعمال برابر ہیں“ اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ خیال کرتے تھے: ”اسلام میں اس کا کوئی حصہ نہیں جس نے نماز ترک کی“ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”جس نے نماز نہ پڑھی وہ کافر ہوا“ اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”جس نے نماز نہ پڑھی اس کا کوئی دین نہیں۔“