❮
❯
حدیث نمبر: 6467
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَوِيُّ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ عَبْدُوسُ بْنُ الْحُسَيْنِ السِّمْسَارُ، ثنا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْقُرَشِيُّ دُحَيْمٌ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ، فَذَكَرَهُ بِزِيَادَتِهِ. وَقَدِ اسْتَشْهَدَ الْبُخَارِيُّ بِرِوَايَتِهِ، وَذَكَرَ الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ سَمَاعَ الْأَوْزَاعِيِّ مِنْ نَافِعٍ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ عَنْهُ، وَكَانَ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ يَزْعُمُ أَنَّ الْأَوْزَاعِيَّ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ نَافِعٍ مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ، وَيَشْهَدُ بِقَوْلِهِ مَا.
حافظ ثناء اللہ

اوزاعی رحمہ اللہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی نافع رحمہ اللہ نے، انہوں نے کچھ زیادتی کے ساتھ اس کو بیان کیا ہے، اور امام بخاری رحمہ اللہ نے اس کی روایت کی گواہی دی ہے، اور ولید بن مسلم رحمہ اللہ نے اوزاعی رحمہ اللہ کا سماع نافع رحمہ اللہ سے بیان کیا ہے۔
یحییٰ بن معین کا خیال تھا کہ اوزاعی نے ابن عمر کے آزاد کردہ غلام نافع سے نہیں سنا، اور آگے آنے والی روایت ان کی بات کی تائید کرتی ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب صلاة الاستسقاء / حدیث: 6467
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري»