حدیث نمبر: 6462
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ أَبَا النَّضْرِ حَدَّثَهُ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ: " مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطُّ مُسْتَجْمِعًا ضَاحِكًا حَتَّى أَرَى مِنْهُ لَهَوَاتِهِ، إِنَّمَا كَانَ يَتَبَسَّمُ، قَالَتْ: وَكَانَ إِذَا رَأَى غَيْمًا، أَوْ رِيحًا عُرِفَ فِي وَجْهِهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، النَّاسُ إِذَا رَأَوَا الْغَيْمَ فَرِحُوا رَجَاءً أَنْ يَكُونَ فِيهِ الْمَطَرُ، وَأَرَاكَ إِذَا رَأَيْتَهُ عُرِفَ فِي ⦗٥٠٣⦘ وَجْهِكَ الْكَرَاهِيَةُ؟ قَالَ: " يَا عَائِشَةُ، وَمَا يُؤَمِّنُنِي أَنْ يَكُونَ فِيهِ عَذَابٌ، قَدْ عُذِّبَ قَوْمٌ بِالرِّيحِ، وَقَدْ رَأَى قَوْمٌ الْعَذَابَ، وَتَلَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ {فَلَمَّا رَأَوْهُ عَارِضًا مُسْتَقْبِلَ أَوْدِيَتِهِمْ قَالُوا هَذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا} [الأحقاف: ٢٤] الْآيَةَ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ عِيسَى وَغَيْرِهِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ هَارُونَ بْنِ مَعْرُوفٍ وَغَيْرِهِ، كُلُّهُمْ عَنِ ابْنِ وَهْبٍ.
حافظ ثناء اللہ

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا (آپ ﷺ کی بیوی) بیان کرتی ہیں کہ میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ آپ ﷺ کھلکھلا کر ہنسے ہوں کہ آپ کی ڈاڑھیں بھی دکھائی دیں، آپ ﷺ تو صرف مسکرایا کرتے تھے اور وہ کہتی ہیں: جب آپ ﷺ بادل دیکھتے یا آندھی تو آپ ﷺ کے چہرے سے محسوس ہو جاتا تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! جب لوگ بادل دیکھتے ہیں تو خوش ہوتے ہیں اس امید سے کہ اس میں بارش ہوگی، میں آپ کو دیکھتی ہوں کہ جب آپ ﷺ (بادل) دیکھتے ہیں تو ناپسندیدگی آپ کے چہرے سے عیاں ہوتی ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے کون سی چیز اس سے بے خوف کر سکتی ہے کہ اس میں عذاب ہو، جبکہ قوموں کو آندھی کے ساتھ عذاب دیا گیا اور ایسے ہی قوم نے عذاب بھی دیکھا“، پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت کی: ﴿فَلَمَّا رَأَوْهُ عَارِضًا مُسْتَقْبِلَ أَوْدِيَتِهِمْ قَالُوا هَذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا﴾ [سورة الأحقاف: 24] ”سو جب انھوں نے اسے اپنی وادیوں کی طرف آتے ہوئے دیکھا تو کہنے لگے: یہ آنے والا ہمیں بارش دے گا“۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب صلاة الاستسقاء / حدیث: 6462
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ البخاري»